حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 279
264 کوئی نہیں تھا اگر ہوتا بھی تو شاید دو مہینے لگ جاتے۔دو مہینے ان کو کپڑوں کے بغیر تو نہیں رکھا جا سکتا تھا۔میں نے سوچا کیا کروں۔میرے اپنے گھر منصورہ بیگم کے جینز کے کپڑے تھے جو نواب محمد علی خان صاحب نے بڑے قیمتی قیمتی جوڑے شادی کے وقت دیئے تھے ڈیڑھ ڈیڑھ دو ہزار ہزار روپے جوڑے کی قیمت ہو گی۔میں نے سوچا میں ذمہ دار ہوں اگر میں نے پہلے اپنے صندوق نہ کھلوائے تو میرے اوپر جائز اعتراض ہو گا۔چنانچہ میں نے اپنے گھر کے زنانے کپڑوں کے سارے صندوق کھلوا کر کپڑے عورتوں کے لئے بھیج دیئے اور ایک جوڑا بھی اپنے پاس نہیں رکھا۔مجھے پتہ تھا کہ ابھی اور مانگ ہوگی کیونکہ ابھی تو کچھ تھوڑی سی ضرورت پوری ہوئی ہے اور بہت سی عورتیں اسی طرح پھر رہی ہیں۔پھر میں نے کہا اب میرا ضمیر صاف ہے۔میں نے اپنی بہنوں کے صندوقوں کے تالے تڑوا دیئے۔بھائیوں کی بیویوں حتی کہ اپنی ماؤں اور بچیوں سب کے صندوق کھول کر کپڑے ان عورتوں کو دے دیئے اور اس طرح ان کا تن ڈھانپا۔اس لئے کہ انسان کا انسان سے خدا نے تعلق قائم کیا ہے اور جو غیرت ہمارے دلوں میں حضرت محمد مصطفی میں ملک کے لئے ہے اس غیرت اور جذبہ کے تحت ہم نے ہر چیز بھیج دی۔یہاں تو کچھ نہیں لائے۔ایک دفعہ میں نے حساب کیا۔قادیان میں مارکیٹ ریٹ کے مطابق ساڑھے تین کروڑ کی جائیداد ہمارے اپنے خاندان والے چھوڑ آئے تھے۔ماشاء اللہ بہت بڑا خاندان تھا مگر یہاں بھوکے تو نہیں مرے۔ہندوؤں اور سکھوں کی اس یلغار نے ہمارے ہاتھ میں مٹی کے کشکول تو نہیں پکڑوائے اور نہ وہ پکڑوا سکتے تھے۔خدا تعالیٰ نے آسمان سے فرشتوں کو بھیج کر ہماری ضرورتوں کو پورا کر دیا اس نے ہمارے دلوں کو دنیا کی حرص سے محفوظ رکھا ہے۔یہ اس کی عنایت ہے لیکن یہ بھی اس کا فضل ہے کہ وہ دیتا ہے اور