حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 245 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 245

230 میں محفوظ ہے۔اردو کے مشہور شاعر احسان دانش اپنی کتاب میں قیام پاکستان کے شروع زمانے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔" میں جب بھی کسی غریب لڑکے کی مرزا ناصر احمد کے پاس سفارش کرتا آپ اسے داخل کرتے اور اس کی تعلیم و تربیت کا انتظام کرواتے۔لہ میاں احمد سعید صاحب صدر حلقہ راج گڑھ لاہور بیان کرتے ہیں:۔جلسہ سالانہ ۱۹۸۱ء کے موقع پر اپنی تقریر میں حضور نے ایک جگہ پر فرمایا تھا کہ جب میں پرنسپل تھا تو اپنے طالب علموں میں سے اگر کسی نے مجھے جھوٹی مدد کے لئے کہا تو میں نے اس کی کچی مدد کرنے کی کوشش کی۔میں نے جو اس وقت جلسہ گاہ میں بیٹھا حضور کی تقریر سن رہا تھا بلند آواز سے کہا تھا کہ خدا کی قسم حضور آپ بالکل سچ کہتے ہیں۔میں اس کی گواہی دیتا ہوں آپ ایسا ہی کرتے تھے۔۱۰۸ tt چوہدری بشیر احمد صاحب ابن مکرم چوہدری محمد انور حسین صاحب آف شیخوپورہ ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہیں۔کالج کے زمانہ میں از راہ شفقت حضور نہایت توجہ فرماتے۔ٹک شاپ سے میرا بل منگوا کر ملاحظہ فرماتے۔کم و بیش تین صد روپے کا اس زمانہ میں بل ہو تا تھا۔جب قدرے کم ہوتا تو حضور نے بلا کر پوچھنا کہ "بشیر! کیا بات ہے؟ کھاتے پیتے کیوں نہیں؟ کیا پیسے کم آتے ہیں؟ ایک دفعہ صبح ہی دفتر میں طلب فرما لیا۔بہت ڈرا کہ پتہ نہیں کیا بات ہے۔وہاں حضرت صاحب نے اور لڑکوں کو بھی بلا رکھا تھا۔سب کو چیک کیا مجھے بھی چیک کیا اور مکا مار کر دیکھا پھر فرمایا کہ ٹھیک ہے عرض کیا کیا ٹھیک ہے؟ فرمانے لگے کہ کل سے تم روئنگ کے لئے جایا کرو گے۔عرض کیا کہ میں تیرا کی نہیں جانتا فرمایا کہ ملاح کو بلاؤ اور پھر اسے