حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 235
220 )) کار کردگی خدا تعالیٰ کے فضل سے مثالی ہے اور ہزاروں غیر احمدی لڑکے اس کالج سے تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔پرنسپل شپ کے علاوہ مرکز سلسلہ کے بے شمار اہم کام آپ کے ذمہ ہیں جو آپ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے نہایت عمدگی اور فراست سے سر انجام دیتے ہیں۔کالج میں بی اے آنرز کلاسز بھی ہیں اور ایم اے عربی کی تعلیم بھی باقاعدہ ہو رہی ہے۔آپ نے اپنی خلافت کے دوران ایک بار بیان فرمایا کہ ان دنوں اگرچہ آپ بطور پرنسپل تو اپنی ذمہ داریاں پوری طرح ادا کر لیتے تھے لیکن غیر معمولی جماعتی مصروفیات اور حضرت مصلح موعود کے تفویض کردہ کاموں کی وجہ سے اپنی کلاس کو پورا وقت نہ دے سکتے تھے اور اس طرح پورا سلیس ختم نہیں ہو سکتا تھا۔آپ نے فرمایا کہ دعا کے نتیجے میں اکثر اوقات ایسا ہوتا کہ آپ کو رویا میں اس سال کا یونیورسٹی کا پرچہ نظر آ جاتا اور آپ کلاس کو بتائے بغیر ان سوالات پر مشتمل جامع نوٹس تیار کر کے چند لیکچروں میں اس مضمون کے متعلقہ حصے پڑھا لیتے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ آپ کے مضمون میں کلاس کا نتیجہ ہمیشہ باقی مضامین سے بہتر ہوتا۔آپ کے شاگرد صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب اس امر کے چشم دید گواہ ہیں۔اس ضمن میں وہ اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۵۸ء ۱۹۵۹۴ء کے سال غیر معمولی دینی مصروفیت کی وجہ سے آپ اپنی بی۔اے کی کلاس کو سیاسیات کے مضمون کا پورا کورس ختم نہ کروا سکے اور اس دوران سالانہ امتحان شروع ہو گیا۔سیاسیات کے پرچے سے تقریباً دو روز قبل آپ نے ان کو ایک کاغذ پر تین سوالات لکھ کر بھجوائے اور ان کے جوابات بھی ٹائپ کروا کر بھیجوائے اور فرمایا کہ یہ بھی پڑھ لینا اور باقی کلاس کے لڑکوں کو بھی بتا دینا۔صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ ان میں سے ایک سوال مارشل لاء کی حکومت میں اور آئینی حکومت میں صدر مملکت کے اختیارات کے بارے بھی تھا اور ۱۹۵۸ء کے مارشل لاء کی وجہ سے ہمارا یہ خیال تھا کہ یہ سوال تو امتحان میں بالکل نہیں آ سکتا بہر حال ہم نے یہ تینوں سوال تیار کر لئے اور جب سیاسیات کا یونیورسٹی کا پرچہ آیا تو اس میں یہ تینوں