حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 234
219 ساتھ ہو۔29155 ۱۹۶۵ء کے کانووکیشن پر فرمایا:۔" حقیقی علم کا ابدی سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔۔۔۔اگر آپ علم سے محبت رکھتے ہیں تو ضروری ہے کہ آپ کا تعلق علم کے حقیقی سر چشمہ سے ہمیشہ مضبوط رہے پس اپنی عقل اور علم پر تکیہ نہ کرو بلکہ ہمیشہ علام حقیقی کے آستانہ پر عاجزی اور انکساری کے ساتھ جھکے رہو تا اس تعلق کے طفیل تمہارے دلوں سے بھی ہمیشہ مصفی ، میٹھے اور لذیذ علم کے۔چشمے پھوٹتے رہیں۔۔۔۔۔یہ بھی نہ بھولنا کہ انسان علم اس لئے حاصل کرتا ہے کہ خود اس سے فائدہ اٹھائے اور دوسروں کی خدمت کرے۔۔۔۔پس ہمیشہ عالم با عمل بننے کی کوشش کرو۔خدا تعالیٰ تمہارے ساتھ ہو اور اپنے سایہ رحمت میں ہمیشہ رکھے۔" اللہ تعالٰی کی غیبی مدد کا آپ کے ساتھ ہونا جیسا کہ باب سوم کے آغاز میں لکھا گیا ہے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو کالج کی پرنسپل شپ کے علاوہ بیک وقت کئی اور ذمہ داریاں بھی خلیفہ وقت کی طرف سے سونپی گئی تھیں جنہیں آپ نہایت فرض شناسی اور ہمت کے ساتھ احسن رنگ میں ادا کر رہے تھے جیسا کہ حضرت مولوی محمد دین صاحب ناظر تعلیم صدر انجمن احمدیہ نے ۱۹۶۲ء ۱۹۶۳ء کی صیغہ جات کی سالانہ رپورٹ میں ایک مرتبہ ان الفاظ میں ذکر کیا۔" ٹی آئی کالج کے پرنسپل محترم حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایم اے آکسن ہیں۔کالج کا تمام انتظام آپ کی نگرانی اور آپ کی ذاتی دلچسپی سے سر انجام پاتا ہے۔کالج میں ایک کو نسل بھی ہے اہم معاملات اس کے مشورے سے فیصلے ہوتے ہیں۔ٹی آئی کالج کی۔