حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 233
218 نے میرا شبہ دور کرنا تھا اس لئے ایک بار میری آنکھ کھلی ، آدھی رات کے وقت بہت پیاس لگ رہی تھی، پانی پینے جانے کے لئے ابا کے کمرے سے گزرنا پڑا وہاں دیکھا کہ ابا نفل پڑھ رہے ہیں۔پانی پی کر واپس آئی تو سلام پھیر چکے تھے ہلکی روشنی میں میں نے دیکھا کہ چہرے پر شرمندگی کے آثار تھے جیسے میں نے کوئی چوری پکڑ لی ہو۔" تعلیم کے بارہ میں صاحبزادہ صاحب کا تصور ۱۹۶۴ء کے کانووکیشن پر صاحبزادہ صاحب نے فارغ التحصیل طلباء کو فرمایا :۔ال " آپ درس گاہ کی تعلیم سے فارغ ہو رہے ہیں مگر تعلیم سے فارغ نہیں ہو رہے۔علم ایک بحر بے کنار ہے۔اس لئے ایک انسان علم میں خواہ کس قدر ترقی کر جائے علم ختم نہیں ہوتا۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفِدَ كَلِمَتُ رَبِّي وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا (الكيف : ١١٠) کہدے کہ اگر سمندر کو سیاہی بنا کر اس سے خدا تعالیٰ کی معرفت کی باتیں ، اس کے دیئے ہوئے علوم اور قدرت کے راز ضبط تحریر میں لانا چاہو تو وہ ایک سمندر کیا اس جیسا ایک اور سمندر بھی لے آؤ تو وہ بھی ختم ہو جائے گا مگر خدا کی باتیں اور اس کے دیئے ہوئے علوم ختم نہ ہوں گے۔اس لئے اللہ تعالٰی نے حضرت رسول اکرم میں سے اور حضور کی اتباع میں ہر مسلمان کی زبان سے یہ کہلوایا کہ رَبِّ زِدْنِی علما ( طه : ۱۱۵) اے اللہ مجھے اپنی معرفت اور علم میں بڑھاتا جا۔پس علم کبھی نہ ختم ہونے والی چیز ہے اس لئے آپ تادم حیات علم کی جستجو میں رہیں اور اس کے حصول کے لئے ہمیشہ کوشاں رہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کے