حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 228
۸۵ 213 چوہدری محمد علی صاحب اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔" ایک مرتبہ ایک نوجوان نے جو جماعت کے ایک نہایت مخلص اور معروف خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔آپ کی ولزلے کار پر ایک طنزیہ مضمون لکھا اور المنار کے انگریزی حصے میں چھپنے کے لئے دیا۔وہ خود - ایک بہت بڑی نئی کار میں کالج آیا کرتے تھے اور ولزلے ایک چھوٹی سی پرانی کار تھی۔محدود مجلس میں حدود کے اندر رہ کر ہلکا پھلکا مزاح ایک الگ بات ہے لیکن اس طرح عام اشاعت کے لئے مضمون کا المنار میں چھپنا ایک بالکل دوسری بات تھی۔چنانچہ عاجز نے مضمون شائع کرنے سے انکار کر دیا۔اس پر حضور کی طرف سے ارشاد ہوا کہ ” یہ مضمون ضرور چھپنا چاہئے۔" مختلف رسالوں میں اس کار پر اتنی نظمیں لکھی گئیں کہ ایک مرتبہ فرمایا۔ساری نظمیں اکٹھی کرو تا کہ ”دیوان کار " چھپوایا جا سکے اور اگر میں اسے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں پیش کروں تو مجھے نئی کار مل جائے۔سب ایک مرتبہ عاجز نے بھی ہوسٹل فنکشن کے موقع پر پنجابی میں ایک نظم اس کار پر لکھی لیکن نظم نہ سنائی۔لیکن نظم نہ سنائی۔فنکشن ختم ہوا تو ارشاد فرمایا کہ سر بیٹھے رہیں جب تک نظم نہ سنائی جائے گی فنکشن ختم نہیں ہوگا۔۔۔عزیز اکرم میر نے یہ نظم پڑھ کر سنائی۔۔۔ایک ادھورا بند کچھ اس طرح سے یاد ہے کا لیتے کلوٹے فی سونہ مینوں باپ دی جدوں سوہنا وچ ہووے توں وی سوہنی جاپدی جوڑ ہل جاوے جدوں کھنگدی جوڑ ساڑے سجناں دی کار اے کالے رنگ دی"