حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 227
212۔کرب انگیز کیوں نہ ہوں صبر و تحمل اور وقار کا دامن چھوٹنے نہ پاتا۔یقین اور ایمان اور سچائی کا سرور طاری رہتا۔ہمیں اداس دیکھتے تو ملکے پھلکے معصوم سے فقروں سے ہمارا دل بہلاتے۔عاجز چائے عادتا نہیں پیتا دودھ کا عادی ہے۔اس پر فرماتے ”چوہدری صاحب اب تک دودھ پیتے ہیں " ایک مقامی بولی بولنے والا نوکر سوئینا اس کا نام تھا اسے پیار سے فرماتے ”سوئیں نا“ یعنی سونا مت۔ایک مرتبہ ۱۹۷۴ء کے پر آشوب زمانے میں عاجز بار بار حضور کی خدمت میں حاضر ہوا تو مسکرا کر فرمانے لگے کہ ہمیں آرائیوں اپنے بہت تنگ کیا ہے۔عاجز نے ادب سے عرض کی کہ حضور آرائیں غریبوں نے کیا تنگ کیا ہے یہ کارنامہ تو مغلوں نے سر انجام دیا ہے۔فرمانے لگے وہ کیسے۔عرض کیا جب مغل مسلمان نہیں ہوئے تھے تو یورپ اور ایشیا ان کے سامنے تھر تھر کانپتے تھے۔مسلمان ہوئے تو شوکت اور ہیبت میں کمی نہ آئی۔بادشاہتیں سنبھال لیں۔وہ دور ختم ہوا تو اب آسمان کی بادشاہت کے وارث قرار پائے۔آرائیں بچارے کس باغ کی مولی ہیں۔حضور مسکرائے اور کچھ اس طرح پیار سے دیکھا کہ سارے غم بھول گئے۔۸۳ ایک اور واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری محمد علی صاحب فرماتے ہیں:۔" میں نے ایک مرتبہ لاہور جانے کی اجازت مانگی لیکن بیمار ہو گیا اور لاہور نہ گیا۔عیادت کے لئے تشریف لائے اور فرمایا ”اد ہو! آج پتہ چلا کہ لاہور سے کیا مراد ہے؟؟۔۔۔عاجز کے پاس ایک بہت بڑا پلنگ تھا جس پر خاکسار لیٹا تھا اسی کی طرف حضور نے اشارہ فرمایا تھا چنانچہ اس پلینگ کا نام ہی لاہور مشہور ہو گیا۔۸۴ آپ کے پاس ایک پرانی کار تھی جس پر ہوٹل کی سالانہ تقاریب میں اکثر ہلکا پھلکا مزاح اور نظمیں ہوتی رہتی تھیں اس پر آپ غصے کی بجائے خوشی محسوس کرتے تھے۔