حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 226
211 کا۔اساتذہ اس طالب علم کی قدر کرتے ہیں جو علمی شوق رکھتا ہو اور علم کی وسیع شاہراہ پر بشاشت اور محنت کے ساتھ آگے بڑھنے والا ہو۔(۵) اور سب سے بڑھ کر ہمارے اساتذہ میں یہ احساس پختگی کے ساتھ قائم ہے کہ محض ظاہری دیکھ بھال اور تربیت کافی نہیں۔ہمارے بچوں کا پہلا اور آخری حق ہم پر یہ ہے کہ ہم دعاؤں کے ساتھ ان کی مدد کرتے رہیں۔میری دلی تمنا اور دعا ہے کہ یہ صحت مند روایات ہمیشہ اس ادارہ میں قائم رہیں کہ ان کے بغیر ہم ان بلندیوں تک نہیں پہنچ سکتے جن۔بلندیوں تک پہنچنے کی خواہش ہمارے دلوں میں ہے۔" Ales حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کی جاری کردہ روایات کی تقلید ڈاکٹر پروفیسر سلطان محمود شاہد لکھتے ہیں:۔کالج کے طلبہ میں امیر و غریب کا تفاوت دور کرنے کے لئے حضور نے سب طلباء کے لئے چھوٹا سیاہ گاؤن بطور یونیفارم لازم قرار دے دیا جو کہ اہل علم کا امتیازی نشان سمجھا جاتا ہے ایک دفعہ پروفیسر مکرم حمید احمد خان صاحب جو اس وقت پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے تعلیم الاسلام کالج میں جلسہ تقسیم اسناد (کانووکیشن) کے لئے تشریف لائے تو تمام طلباء کو سیاہ گاؤن پہنے دیکھ کر بہت متاثر ہوئے اور واپس پہنچ کر پنجاب یونیورسٹی کے پوسٹ گریجویٹ طلباء کے لئے سیاہ گاؤن १९ پہننا لازمی قرار دیا۔۸۲ آپ کی شخصیت پاکیزہ مزاح اور طبیعت کی شگفتگی پروفیسر چوہدری محمد علی صاحب بیان کرتے ہیں:۔" حضور کی طبیعت میں بے حد شگفتگی تھی۔۔۔حالات خواہ کیسے ہی