حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 219 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 219

204 ہے باسکٹ بال پر بھی خصوصاً رہا تاہم فٹ بال کبڈی، ہاکی، والی بال اور اتھلیٹکس بھی کالج میں باقاعدہ جاری رہے، ربوہ میں کالج کی ٹیم کا کوئی بھی بورڈ یا یونیورسٹی کا میچ ہو تا حضور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ضرور تشریف لاتے۔میچ سے قبل اپنے آفس میں کھلاڑیوں سے ملاقات فرماتے انتہائی شفقت کے ساتھ نصائح فرماتے اور دعا کرواتے۔کھیل کے میدان میں بھی کھیل سے قبل۔وقفہ کے دوران اور بعض دفعہ اختتام پر کھلاڑیوں۔سے ملتے اور حوصلہ افزائی فرماتے۔فتح کی صورت سے میں حضور نہایت بشاشت کے ساتھ شاباش دیتے لیکن ہارنے کی صورت میں ہم نے کبھی حضور کو ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے نہ پایا۔دو تین مرتبہ فٹ بال کے راولپنڈی زون کے فائنل ربوہ میں کھیلے گئے اور خدا کے فضل سے ہماری ٹیم فتح سے ہمکنار ہوئی۔غالبا ۱۹۶۰ء کی بات ہے ہماری ٹیم جس کا میں بھی ممبر تھا زون کے فائنل میچ دو گول سے جیت گئی حضور از راه شفقت ہماری حوصلہ افزائی کے لئے گراؤنڈ میں تشریف لائے ہوئے تھے۔میچ کے اختتام پر جب حضور خوشی خوشی کالج میں اپنی کوٹھی کی طرف جانے لگے تو ہم کھلاڑیوں) نے فتح کی خوشی میں حضور کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔زندہ باد کے نعروں کے ساتھ ہمارا مطالبہ دو چھٹیوں کا تھا مگر حضور بھی شاید مذاق کے موڈ میں تھے آپ کا مکا انکار کے رنگ میں بھراتا رہا اور ہماری دو انگلیاں نعروں کے ساتھ دو چھٹیوں کے لئے بلند ہوتی رہیں جب قافلہ ہوسٹل تک پہنچا تو حضور کی ایک انگلی چھٹی کے لئے اٹھ گئی لیکن ہماری دو انگلیاں مسلسل اصرار کرتی رہیں لیکن آپ کبھی ایک انگلی کا اشارہ فرماتے اور کبھی مٹھی بند کر کے انکار کا مکا لہرا دیتے۔ہمارا اصرار کو ٹھی کے گیٹ تک جاری رہا یہاں پہنچ کر حضور نے اپنی دو انگلیاں پر مسرت انداز میں لہرا کر دو چھٹیوں کا اعلان فرمایا اور ہم نے حضور کو اپنے کندھوں سے اتار دیا۔