حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 213
198 وہ اتنا دلکش تھا کہ غیر بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔چنانچہ اس حقیقت کا اظہار جسٹس انور الحق صاحب حج ہائیکورٹ مغربی پاکستان لاہور نے ۱۹۶۳ء میں کانووکیشن کے موقع پر ان الفاظ میں کیا۔آج آپ کے ادارہ میں آکر میری اپنی طالب علمی کا دور میری آنکھوں کے سامنے آگیا۔آکسفورڈ جیسی فضا دیکھ کر میرے دل میں پرانی یادیں تازہ ہو گئی ہیں اور میں سوچ رہا ہوں کہ آپ لوگ خوش 249ee قسمت ہیں کہ آپ کو مثالی تعلیمی اور تربیتی ماحول میسر ہے جہاں دوسری جگہوں کی مضرت انگیز مصروفیات ناپید ہیں۔اس طرح سابق سیکرٹری محکمہ تعلیم انور عادل صاحب سی ایس پی سیکرٹری صوبائی وزارت داخلہ نے کہا:۔" بلاشبہ آپ کا یہ تعلیمی ادارہ اس لحاظ سے بہت خوش قسمت ہے کہ اسے وہ ماحول میسر ہے جسے ہم صحیح معنوں میں تعلیمی ماحول کہتے ہیں۔یہاں دھیان بٹانے اور توجہ ہٹانے والی بے مقصد قسم کی غیر علمی مصروفیات ناپید ہیں یہی وجہ ہے کہ اس خالص تعلیمی ماحول میں حصول تعلیم اور کردار سازی کے نقطہ نگاہ سے آپ کو یہاں ایک بھرپور زندگی بسر کرنے کا زریں موقع حاصل ہے اور آپ لوگ سیرت و کردار کے یکساں سانچوں میں ڈھلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔“ جناب عبدالحمید صاحب دستی وزیر تعلیم مغربی پاکستان نے کالج کے معائنہ کے دوران کے امارچ ۱۹۵۷ء کو فرمایا۔" تعلیم الاسلام کالج ربوہ کی اسلامی روایات قابل تقلید و ستائش ہیں۔پرنسپل میاں ناصر احمد صاحب کی مساعی ادارے کی ہر نوع میں تعمیر کے متعلق مبارکباد کی مستحق ہیں۔۔۔۔ادارے کے معائنہ سے مجھے بہت اطمینان اور راحت نصیب ہوئی ہے۔" ایک