حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 207
192 میں قریباً پندرہ روپے فٹ کے حساب سے عام عمارت بنتی تھی اور کالج کی عمارت کی تو دیواریں اونچی تھیں اور چھتیں اور قسم کی تھیں اس پر زیادہ خرچ ہونا چاہئے لیکن میں خود دیکھ کر حیران ہو گیا کہ ہمارا سارا خرچ چھ سات روپے فٹ کے درمیان آیا۔خدا نے اتنی برکت ڈال دی۔۴۔تعمیر کالج کے دوران آپ کی غیر معمولی مصروفیت کے بارہ میں آپ کے ایک ساتھی ملک محمد عبد اللہ صاحب لیکچرار دینیات تعلیم الاسلام کالج ربوہ بیان کرتے ہیں:۔جن دنوں ربوہ میں آپ تعلیم الاسلام کالج کی شاندار عمارت بنوا رہے تھے۔دن رات اپنے آپ کو اسی کام کے لئے وقف کر رکھا تھا اور اس قدر محنت اور لگن سے یہ کام کروا رہے تھے کہ اپنی صحت کا بھی چنداں خیال نہیں تھا۔ایک دن آپ مغرب کے بعد سائیکل پر بڑی تیزی سے دار الضیافت تشریف لائے۔ان دنوں یہ ادارہ بیت المبارک کے قریب ہو تا تھا اور حضرت حکیم فضل الرحمان صاحب اس کے ناظم تھے۔کھانا ختم ہو چکا تھا۔خاکسار حضرت حکیم صاحب کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت میاں صاحب نے حکیم صاحب سے فرمایا کہ آج رات کو بھی کالج کی تعمیر کا کام جاری ہے روشنی کا انتظام میں نے کر لیا ہے آپ مجھے جو بھی کھانا موجود ہے دے دیں۔میں نے جلد واپس جانا ہے۔حضرت حکیم صاحب نے فرمایا کہ میاں صاحب اس وقت تو صرف دال اور روٹی ہی موجود ہے۔آپ تھوڑی دیر ٹھہر جائیں۔میں تازہ کھانا تیار کروا دیتا ہوں مگر جو کھانا موجود تھا وہی کھا کر واپس کالج تشریف لے گئے۔"