حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 206
191 آگے بڑھنے کی توفیق دیتا چلا گیا۔آج تک مجھے (جو خرچ کرنے والا تھا) پتہ نہیں کہ یہ رقم کہاں سے آئی۔۔۔۔یہ کالج کی عمارت ہوسٹل اور دوسری بلڈنگیں ہیں وہ سب ملا کر ایک لاکھ مربع فٹ سے اوپر ہیں اور میرا رف اندازہ ہے کہ ان پر چھ سات لاکھ کے درمیان خرچ آیا ہے۔بعض دفعہ پڑھے لکھے غیر از جماعت دوست یقین نہیں کرتے کہ اتنی تھوڑی رقم میں یہ اتنی بڑی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے۔۔۔۔؟ رو جب میں کالج میں تھا تو اس وقت حضرت صاحب (حضرت مصلح موعود رضی اللہ ) نے مجھے بلڈنگ کے بعض حصوں کے لئے بعض افراد سے چندہ لینے کی بھی اجازت دی تھی۔میں سب کو یہی سمجھاتا تھا کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں پیسہ بہت دیا ہے لیکن خدا تعالیٰ نے ہمیں ایک پیسہ بھی < کہ ضائع کرنے کے لئے نہیں دیا۔اس واسطے ہماری یہ ذمہ داری ہے ایک پیسہ ایک دھیلہ بھی ضائع نہ ہو بلکہ جو پیسہ ملا ہے اس کا صحیح مصرف ہونا چاہئے۔ایک دفعہ میں یہاں سے گاڑی میں جا رہا تھا تو اس میں کچھ پڑھے لکھے اچھے عہدیدار بیٹھے ہوئے تھے۔میں سٹیشن سے سوار ہوا۔جب گاڑی چلی تو وہ آپس میں باتیں کرنے لگے کہ یہ بڑے امیر لوگ ہیں۔یہ دیکھو انہوں نے یہ بنا دیا۔سکول آیا تو کہنے لگے کہ انہوں نے اتنا بڑا سکول بنا دیا بڑی امیر جماعت ہے۔وہاں سے ہمارے دفاتر اور ہسپتال تو نظر نہیں آتے پھر کالج آیا تو کہنے لگے اتنا بڑا کالج بنا دیا بہت امیر لوگ ہیں۔جس وقت ربوہ کی امارت پر تنقید ختم ہوئی تو میں نے انہیں کہا کہ میں یہاں رہتا ہوں اور احمدی ہوں۔ہم واقعی بہت امیر ہیں لیکن ہماری دولت روپیہ نہیں ہے ، ہماری دولت وہ رحمتیں ہیں جو ہم خدا سے وصول کرتے ہیں اور وہ برکت ہے جو خدا ہمارے پیسے میں ڈالتا ہے۔میں نے پرانے کالج کی بلڈنگ بنوائی تو وہ ستا زمانہ تھا۔اس زمانے