حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 205 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 205

190 ایک ایک اینٹ چنوائی اور ساتھ ساتھ سبزے کو مدنظر رکھتے ہوئے پودے اور درخت لگانے شروع کئے یہ انہیں دنوں کا واقعہ ہے، ایک شخص ادھر سے گزرا۔۔۔مسافر تھا اسے معلوم ہوا کہ یہاں کالج بن رہا ہے، تو وہ کالج کی طرف روانہ ہوا۔اس شخص کا بیان ہے ” میں جب کالج کی زیر تعمیر عمارت کے قریب آیا تو ایک شخص ملیشیا کی شلوار قمیض میں سر پر تولیہ رکھے ایک پودا لگا رہا تھا میں نے سوچا یہ یہاں کا مالی ہے۔میں قریب آیا اور سوال کیا۔میں یہاں کے پرنسپل صاحب سے مل سکتا ہوں ؟ وہ شخص کھڑا ہوا اور مسکرانے لگا اور مسکراتے ہوئے مجھ سے کہنے لگا کہ میں ہی یہاں کا پرنسپل ہوں، فرمائیے کیا کام ہے۔میں حیران اور دنگ رہ گیا اور دل میں کہا کہ اگر یہاں کا پرنسپل اتنا عظیم ہے تو کالج بھی کتنا عظیم ہو گا اور ترقی کرے گا۔بہت ترقی کرے گا۔۶۲؎ فنڈز کی فراہمی اور تکمیل تعمیر میں نصرت الہی کا ذکر کرتے ہوئے بعض مواقع پر آپ نے خود فرمایا:۔" جب میں نے کالج کا نقشہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے حضور پیش کیا تو آپ مسکرائے اور فرمایا اتنا بڑا کالج بنانے کے لئے میرے پاس پیسے نہیں ہیں تمہیں ایک لاکھ روپیہ کالج کے لئے اور پچاس ہزار ہوسٹل کے لئے دے سکتا ہوں۔۔۔۔۔پس انجنیئر سے مشورہ کر کے اس نقشہ پر سرخ پنسل سے نشان لگواؤ کہ ایک لاکھ سے بلڈنگ کا اتنا حصہ بن جائے گا۔وہ میں نے تم سے بنا ہوا لینا ہے۔میں نے اس وقت جرات سے کام لیتے ہوئے حضور کی خدمت میں عرض کیا۔ٹھیک ہے۔میں حضور سے پیسے مانگنے نہیں آیا نقشہ منظور کروانے آیا ہوں اس کے لئے حضور دعا فرما دیں۔میں لکیریں لگوا کر لے آؤں گا لیکن مجھے اجازت دی جائے کہ جماعت سے عطایا وصول کر سکوں۔حضور نے فرمایا۔ٹھیک ہے عطایا وصول کرو لیکن لکیریں ڈلوا کر لاؤ۔۔۔۔اللہ تعالیٰ ہر مرحلہ پر