حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 202
187 رقم آپ کی رہائی کے بعد ۲۶ جون ۱۹۵۳ء کو حضرت مصلح موعود نے اپنے دست مبارک سے کالج اور ہوسٹل کا سنگ بنیاد رکھا اور بنیاد میں دار لمسیح قادیان کی ایک اینٹ نصب فرمائی اور دعا کے بعد دس بکرے بطور صدقہ ذبح کئے گئے۔ایک بکرا حضرت مولوی محمد دین صاحب ناظر تعلیم و تربیت نے اور ایک بکرا حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے اپنے دست مبارک سے ذبح کیا۔۱۹۵۴ء کے شروع میں آپ کو مستقل طور پر ربوہ بلوایا گیا اور آپ نے تعمیر کالج کی براہ راست نگرانی شروع کر دی۔محترم پروفیسر محبوب عالم خالد لکھتے ہیں :۔ہیں:۔" ۱۹۵۴ء کے شروع میں جب سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی بیمار ہوئے تو حضور نے آپ سے ارشاد فرمایا کہ تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں لے آؤ۔ربوہ میں کالج کے لئے کوئی عمارت نہ تھی، وقت بہت کم تھا“ گرمی کے ایام تھے۔ربوہ کی تمازت مشہور ہے مگر آپ نے ان سب باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے آقا کی آواز پر لبیک کہی۔خود یہاں آ گئے اور بظاہر کالج کی تعمیر کے سامان پیدا نہ ہو سکنے کے باوجود اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے کام شروع کر دیا۔دھوپ میں کھڑے ہو کر آپ خود نگرانی کرتے اور اس طرح اس عمارت کے ایک حصہ کے بعد دوسرے حصہ کی تعمیر اپنی نگرانی میں کرواتے چلے گئے۔مشکلات سے کبھی آپ گھبرائے نہیں۔" منصوبہ کے لئے فنڈز کی فراہمی اور تحمیل تعمیر کے لئے صاحبزادہ صاحب کی غیر معمولی محنت اور نصرت الہی کے نظارے چوہدری محمد علی صاحب سابق پرنسپل تعلیم الاسلام کالج ربوہ لکھتے ہیں۔>> جب کالج ربوہ میں بن رہا تھا تو عاجز بھی ایک لمبے عرصے تک حضور کے ساتھ ڈیوٹی پر رہا۔ان دنوں مالی لحاظ سے جماعت بہت کٹھن