حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 198 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 198

183 چہرے جیل کو نہ جانے کتنے سال بعد دیکھنا نصیب ہوئے تھے جو اپنی بے گناہی کے جرم میں پکڑے گئے ہوں۔میں نے عرض کی کہ کوئی تکلیف تو نہیں۔حضور نے فرمایا کہ ” ہمیں تو خوشی ہے۔تکلیف کس بات کی" فرمایا ”جیل کے قیدی بہت پیار سے پیش آتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے کام بھی ہمیں نہیں کرنے دیتے" نیز فرمایا ” ایک معمر قیدی ہیں جو فسادات کے ضمن میں قیدی بن کر آئے تھے وہ تجد باقاعدگی سے پڑھتے اور بلند آواز سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں اور بد دعائیں دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ نے نبی اکرم می کی بہتک کی ہے" حضور نے فرمایا کہ ”ہمیں تو ان کی گالیوں پر بھی غصے کی بجائے پیار آتا ہے کہ وہ گالیاں اس لئے دے رہے ہیں کہ انہیں ہمارے آقا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آقا حضرت محمد مصطفی میں تیر محبت اور عشق ہے" نیز فرمایا ”اور تو اور فسادات میں گرفتار ہونے والے بعض غیر احمدی لیڈروں کی ضروریات بھی ہماری وجہ سے پوری ہو رہی ہیں" یہ بھی اللہ تعالیٰ کی شان تھی کہ جب اندر کمرے میں ہر دو بزرگ عزت کے ساتھ کرسیوں پر تشریف فرما تھے عین اس وقت ایک بہت بڑے لیڈر جو فسادات میں ماخوذ ہوئے تھے چلچلاتی دھوپ میں اسی کمرے کی سلاخ دار کھڑکی کے باہر ملاقات کر رہے تھے ملاقاتی کمرے کے اندر کھڑا تھا اور وہ صاحب باہر۔میں نے یہ ملاقات ایک آرمی افسر کے ذریعہ کی تھی جو غیر از جماعت تھے اور عاجز کے کلاس فیلو۔میں کچھ پان لے گیا تھا کہ حضور کبھی کبھی پان سے شغف فرماتے تھے اس خیال سے کہ میں جس کے ہمراہ آیا ہوں اس کی وجہ سے کوئی چھوٹی موٹی چیز اس طرح اندر لے جانے کی ممانعت نہیں ہوتی میں نے پان حضور کی خدمت میں پیش کئے تو حضور نے فرمایا کہ ”یہ تو خلاف قانون بات ہے اور پان لینے سے انکار فرما دیا۔۵۶ ه