حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 193
178 فکر تھی۔۔۔اس عاجز کو حضرت میاں صاحبان کی معیت میں بہتر (۷۲) گھنٹے سے زیادہ ہی رہنے کا موقع ملا اور میں نے آپ کو بہت قریب سے خوب خوب ہی دیکھا۔ہر لمحہ اور ہر آن ان کی رفاقت ہمارے ایمانوں میں اضافہ کا باعث بنی رہی اور آج تک میرے دل و دماغ پر كَالنُّقْشِ فِي الْحَجَرِ۔۔۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی دن خواب میں ظاہر فرما دیا تھا۔عین اسی کے مطابق یہ عاجز تو انٹروگیشن (INTERRO GATION) ہی میں رہائی پا گیا اور حضرت میاں صاحبان چند ماہ بعد رہا ہو گئے ۵۲ گرفتاری اور قید کے دوران صبر و استقلال کا اعلیٰ نمونہ ९९ لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) بشارت احمد صاحب بیان کرتے ہیں:۔" میں یہاں اپنے ہم پیشہ دو افسروں کا ذکر کروں گا۔نام مصلحتا نہیں لے رہا مگر واقعات بالکل درست ہیں اور عین ان کے بیان کے مطابق ہیں۔ایک لیفٹیننٹ (جو اب بریگیڈئیر ہیں) نے بتایا کہ ۱۹۵۳ء میں ان کو رات کے وقت حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کو جو اس وقت لاہور میں پرنسپل تعلیم الاسلام کالج تھے رتن باغ کی عمارت سے گرفتار کرنے کے لئے وارنٹ دیئے گئے۔یہ افسر جہاں وقت مقررہ پر رتن باغ گئے تو انہوں نے مکان کی دوسری منزل کے ایک کمرہ سے پردوں سے نکلتی ہوئی روشنی کو دیکھ کر تعجب کا اظہار کیا۔گھنٹی بجائی۔ایک خادم ۵ منٹ کے اندر نیچے اترا۔جب حضرت مرزا صاحب کے متعلق معلوم کیا کہ کیا کر رہے ہیں تو جواب ملا کہ ”نماز پڑھ رہے ہیں یہ صاحب بہت حیران ہوئے۔پھر سنبھلے۔بہت جلد حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے جب حضور کو وارنٹ گرفتاری دکھائے تو حضور نے فرمایا اگر اجازت ہو تو میں اٹیچی کیس لے لوں۔پھر گھر والوں کو خدا حافظ کہا اور ساتھ چل پڑے۔