حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 190
175 صاحب بیتاب ہو گئے۔اس کے بعد آپ بار بار فرماتے کہ اب یہ سزا سے نہیں بچ سکتا۔اس نے اپنا ثواب بھی ضائع کر لیا " اور پھر ہم میں سے ایک ایک سے مل کر فرماتے۔وو بیٹا ہم خدا کی خاطر یہاں آئے ہیں۔یہ ہمارے ایمانوں کی آزمائش ہے۔اگر ہم آزمائش میں پورے نہ اترے تو (ہم) جیسا بد نصیب کوئی نہ ہوگا اور اگر اس آزمائش میں کامیاب ہو گئے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوں گے۔اگر ہم نے جھوٹ بولا تو اس کی نصرت سے محروم ہو جائیں گے۔خواہ کتنی بڑی سزا مل جائے مگر سچ کا دامن کسی صورت میں بھی نہیں چھوڑنا " حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت تو اسی لمحہ میں ہمارے ساتھ ہو گئی تھی جب مارشل لاء حکام کے ذہن میں خیال بھی گزرا ہو گا کہ اب گرفتاریوں میں توازن قائم رکھنے کے لئے جماعت احمدیہ کے افراد کو بھی پکڑا جائے بلکہ یہ جسارت بھی کہ خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی ہاتھ ڈالا جائے۔۔۔۔جیل میں پہلی رات نہایت ہی کرب میں گزری۔صبح ہوئی ، ہمیں ان کو ٹھڑیوں سے باہر نکالا گیا۔ہم ضروری حاجات سے فارغ ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور سر بسجود ہوئے اور باہر اپنے کمبل بچھا کر بیٹھ گئے حضرت میاں ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے میری اداسی دیکھ کر فرمایا۔سورۃ ملک یاد ہے؟ فرمایا سناؤ چنانچہ اس عاجز نے سورۃ ملک سنائی۔پھر فرمایا۔کوئی خواب آئی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ حضور آئی ہے۔فرمایا۔سناؤ۔چنانچہ میں نے عرض کیا کہ " حضور میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے لئے ایک ریلوے لائن تیار ہوئی۔ہے جس کے بائیں پہلو سے ایک چھوٹی سی لائن تیار ہوئی ہے جیسے کہ ٹرالی وغیرہ کے لئے ہوتی ہے۔وہ صرف میرے لئے ہے اس کے آگے بھی مین لائن ہے اس کے ساتھ کچھ لوگ پچھلا ہوا مزید لوہا دائیں جانب