حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 175
160 بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں ، میں واپس اپنے کالج چلا جاتا ہوں۔طلباء نے بیک زبان نعرہ لگایا کہ ہمیں آپ پر اعتماد ہے اور خاموش ہو گئے۔چنانچہ حضور واپس میٹنگ میں تشریف لے گئے اور محبت اور انصاف دونوں کے تقاضے پورے کرنے والا فیصلہ فرمایا جسے فریقین نے خندہ پیشانی سے قبول کیا۔۳۸ ایک اور واقعہ پروفیسر چوہدری محمد علی صاحب یوں بیان کرتے ہیں:۔”لاہور کے کالجوں کا عالم طالب جانتا تھا کہ پرنسپل تعلیم الاسلام کالج کس بلند مرتبے اور کردار کے انسان ہیں۔دوسرے کالجوں کے پر نسپلوں کی موجودگی میں شوخی کرنے والے حضور کے سامنے ادب سے گفتگو کیا کرتے تھے۔حضور خود بھی تمام طلباء کو بلا تخصیص کالج اپنا عزیز طالب علم جانتے تھے اور ان کے جائز حقوق کی حفاظت کے لئے کوشاں رہتے تھے۔اکثر فرمایا کرتے کہ ہمارا طالب علم طبعاً شریف ہوتا ہے خرابی اس کی ہینڈ لنگ Handling میں ہوتی ہے۔الا ماشاء اللہ۔ایک مرتبہ لاہور کے کالجوں نے سٹرائیک کی تو تعلیم الاسلام کالج کا گھیراؤ کر لیا کہ اسے بھی بند کیا جائے۔حضور نے فرمایا کہ قطع نظر اس کے کہ سٹرائیک کو ناجائز فعل سمجھتے ہیں اگر آپ اپنے دل سے پوچھ کر دیانت داری سے بتائیں کہ اس طرح سٹرائیک کرنے سے کشمیر مل جائے گا تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ تعلیم الاسلام کالج ایک دن تو کیا اگر بالکل بھی بند کرنا پڑے تو بند کر دوں گا اور چند منٹ اپنے دلاویز تبسم کے ساتھ ان سے گفتگو فرمائی۔لڑکے قائل ہوئے اور پرنسپل تعلیم الاسلام کالج زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے چلے گئے۔"" اسی طرح ایک واقعہ پروفیسر صوفی بشارت الرحمان صاحب بیان کرتے ہیں:۔لاہور کے کالج ہی کے زمانہ کا واقعہ ہے کہ دریائے راوی میں تعلیم الاسلام کالج اور غالبا اسلامیہ کالج لاہور کا مینگ بوٹ ریس