حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 171 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 171

156 کو کھل کر ملاحظہ کیا۔سینٹ اور یونیورسٹی کے دیگر اجلاسوں میں حضور کو انتہائی عزت اور احترام کا مقام حاصل تھا۔سینٹ یونیورسٹی کی پارلیمنٹ سمجھی جاتی تھی۔ایک اجلاس میں جس میں حضور شامل نہ تھے کوئی نامناسب فیصلہ کیا گیا تھا۔اس اجلاس کی کارروائی اگلے اجلاس میں برائے تصدیق پڑھی جا رہی تھی۔یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ کارروائی یعنی (Minutes) میں درج فیصلوں کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا لیکن جب اس مقام پر پہنچے جہاں اس فیصلے کا ذکر تھا تو حضور نے تعجب سے فرمایا کہ یہ فیصلہ آپ نے کس طرح کر دیا۔اس پر مسٹریو۔کرامت وائس چانسلر صاحب نے فرمایا۔مرزا صاحب پھر کیا کرنا چاہئے۔اس پر حضور نے فرمایا۔میں تو کہوں گا اسے کالعدم کر دیں۔اس پر وائس چانسلر صاحب نے کہا کہ ایسا ہی ہو گا۔ایوان میں سے کسی ایک نے بھی اعتراض نہ کیا کہ حسب قواعد یہ نہیں ہو سکتا اور اپنی خاموشی سے اس نئے فیصلے پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ایک اور واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری محمد علی صاحب لکھتے ہیں۔ایک مرتبہ سینٹ ہی میں پنجاب یونیورسٹی کے نئے کیمپس کا معاملہ پیش تھا۔کروڑوں کا بجٹ تھا۔سارے ایوان کا ماحول اس تجویز کے حق میں معلوم ہوتا تھا کہ یونیورسٹی کو نئے کیمپس میں شہر کے باہر لے جایا جائے۔حضور نے فرمایا۔میں اس کے خلاف ہوں۔اگر یونیورسٹی کی نئی عمارت بنانی ہے تو اندون ملک شہروں کے خرخشوں سے پاک آکسفورڈ کیمبرج اور علی گڑھ کے نمونے پر کسی مناسب جگہ پر بنائی جائے بصورت دیگر اتنی رقم اینٹوں اور سیمنٹ پر خرچ کرنے کی بجائے انسانوں پر خرچ کی جائے یعنی طلباء اور اساتذہ کو معقول وظائف دیئے جائیں اور ان کی ملک میں اور بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کا انتظام کیا جائے یہاں تک کہ کالج