حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 169
154 کالج کے ابتدائی دنوں میں ہی کالج کی ٹیمیں مختلف اعزاز حاصل کرتی رہیں اور روئنگ میں کالج کی ٹیم پنجاب روئنگ ایسوسی ایشن (PUNJAB ROWING ASSOCIATION) کے سالانہ مقابلہ میں اول آئی۔کالج کی دیگر متفرق سرگرمیاں صاحبزادہ صاحب کی حسن کارکردگی کی بدولت کالج اپنے مخصوص نامساعد حالات کے باوجود تعلیمی سرگرمیوں کے علاوہ دیگر متفرق سرگرمیوں میں بھی دوسرے کالجوں سے کندھے کے ساتھ کندھا ملا کر جلد ہی چلنے کے قابل ہو گیا۔ہر شعبہ میں ترقی ہونے لگی۔۱۹۴۹ء ۱۹۵۰۴ء میں طلباء کی تعداد ساٹھ سے پونے تین سو تک ہو گئی۔لائبریری میں اضافہ ہوا، کالج یونین ، مجالس عربی، اقتصادیات، سائنس سوسائٹی ، فوٹو گرافک اور ریڈیو سوسائٹی قائم ہو کر سرگرم عمل رہیں۔یونیورسٹی آفیسرز ٹریننگ کور میں کالج کے دستہ نے سالانہ کیمپ ۱۹۴۸ء کے موقع پر ضبط اور اطاعت کا بہترین نمونہ دکھا کر اعلیٰ افسروں حتی کہ کمانڈر انچیف پاکستان سے سے خراج تحسین وصول کیا۔۱۹۴۹ء کے سالانہ کیمپ کے موقع پر یونیورسٹی آفیسرز ٹرینگ کور کے ہر افسر نے کالج کے دستہ کی اعلیٰ کارکردگی پر اظہار مسرت کیا اور یہ دستہ عسکری فنون میں تمام دستوں سے اول رہا۔مختلف گارڈز آف آنر میں اس کالج کے لڑکوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔ان دنوں شہنشاہ ایران کو جو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اس میں اس کالج کے طلباء کی تعداد اسی (۸۰) فیصد تھی۔طلباء کی دینی اور اخلاقی تربیت کی طرف بھی خصوصی توجہ دی جاتی رہی۔تقاریب تیم اسناد کے موقعہ پر بھی کالج کے لئے اہم شخصیتوں کا اہتمام کیا جاتا رہا۔۱۹۵۰ء کے جلسہ تقسیم اسناد کے لئے حضرت مصلح موعود خلیفہ المسیح الثانی " بنفس نفیس تشریف لائے۔۱۹۵۱ء میں ڈاکٹر قاضی محمد بشیر احمد صاحب (برادر اکبر قاضی محمد اسلم صاحب ایم اے کنٹ)۔۱۹۵۲ء میں آنریبل جسٹس ڈاکٹر ایس اے رحمان وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی، ۱۹۵۴ء میں حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب سابق وزیر خارجہ