حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 162
147 رہیں (۳) کالج کے لئے ایک سو روپیہ چندہ اکٹھا کر کے ضرور لائیں۔(۴) کالج میں داخلہ کے لئے پراپیگنڈہ کرتے رہیں (۵) آپ کے ذمہ مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے لئے بھی پانچ سے دس روپیہ کا چندہ لگایا گیا تھا۔یہ بالکل معمولی کام ہے۔ذرا سی توجہ سے ہو سکتا ہے۔خدا تعالی آپ کے ساتھ ہو اور آپ کو حقیقی احمدی بنائے۔" ۲۷ طلباء کے ساتھ خوشگوار تعلقات کالج کے زمانہ میں آپ کے طلباء کے ساتھ تعلقات کا یہ عالم تھا کہ جوں ہی ۱۹۴۴ء میں کالج قائم ہوا آپ نے کالج میں جماعتی اور خدام الاحمدیہ کی سرگرمیوں کو بھی جاری کیا اور ایک خاص روایت یہ قائم فرمائی کہ لائق اور ہونہار طلباء کو گھر پر بلا کر ان کی خاطر مدارت بھی کرتے اور ان کی پڑھائی میں مدد بھی کرتے۔آکسفورڈ کی روایت کو آپ نے کالج میں جاری فرمایا ہوا تھا راجہ غالب احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ انہیں بھی گھر پر تین مرتبہ بلایا۔فرمایا کرتے تھے کہ کسی وقت گھر بھی آجایا کرو۔میری ذاتی لائبریری ہے اس سے استفادہ کیا کرو۔جب بھی وہ گھر گئے ان کی چائے کافی وغیرہ سے خاطر مدارت فرمائی اور کتابیں دکھائیں اور کہا کہ اگر کوئی کتاب چاہئے تو لے لو۔کلاس میں آپ نوٹس لکھواتے تھے نیز ہفتہ وار یا دو ہفتے بعد بعض اوقات امتحان بھی لے لیتے۔اس طرح طلباء میں آپ نے اعلیٰ روایات قائم فرمائیں۔۱۹۲۵ء کا واقعہ ہے۔آپ کی بیگم صاحبہ بھی بیمار تھیں اور ایک بچہ بھی جس کی عمر اس وقت تقریباً تین سال ہو گی۔راجہ غالب احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت بیگم صاحبہ اور بچے کی تیمارداری کی وجہ سے آپ دن رات مصروف رہتے تھے۔آپ نے بچے کی تیمارداری کے لئے اپنے طلباء مکرم راجہ غالب احمد صاحب، محمود احمد صاحب پشاوری مرحوم اور عبدالشکور صاحب کی دو دو تین تین گھنٹے کی ڈیوٹی لگائی اور رات کو خود بھی جاگ کر پوچھتے رہے اور ڈیوٹی پر متعین طلباء کو چائے وغیرہ بھی دیتے رہے۔