حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 151
قاضی محمد اسلم صاحب ایم اے 136 ملک غلام فرید صاحب ایم اے (سیکرٹری) کالج کے قیام کے لئے حکومت پنجاب نے مارچ ۱۹۴۴ء میں منظوری دے دی جس کی اطلاع مرکز کو بذریعہ تار ۲ جون ۱۹۴۴ء کو ہوئی۔۱۹۴۴ء میں ہی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے دعویٰ مصلح موعود فرمایا تھا اور جماعت کے لئے ایک نئے دور کا آغاز ہوا تھا۔چنانچہ کالج کے قیام کو بھی نئے دور کی نشانیوں میں سے ایک نشانی سمجھا گیا۔۱۶ رض صاحبزادہ صاحب کا بطور پرنسپل کالج تقرر حضرت مصلح موعود خلیفہ المسیح الثانی بنی الشیر کے بے شمار کارناموں میں سے ایک الله کارنامہ قادیان میں کالج کا قیام ہے حضرت خلیفہ المسیح الثانی بنی الشیہ کی کالج کے ابتدائی انتظامات کے لئے مقرر کردہ کمیٹی نے جس کے صدر حضرت قمر الانبیاء مرزا بشیر احمد صاحب تھے حضرت مصلح موعود خلیفہ المسیح الثانی بی الیہ کو صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو کالج کا پرنسپل بنانے کی تجویز پیش کی جسے حضور نے منظور فرمایا اور اس طرح۔۔مئی ۱۹۴۴ء (مطابق ۷ ہجرت ۱۳۲۳ ہش کو صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کا بطور پرنسپل تعلیم الاسلام کالج قادیان تقرر ہوا۔جماعت کے اکثر لوگ جانتے ہیں کہ حضرت قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب میں اللہ کس اعلیٰ پائے کے بزرگ اور خدا رسیدہ انسان تھے۔ایسے بزرگ کی صدارت میں کالج کمیٹی کا آپ کو پرنسپل تجویز کرنا اور حضرت مصلح موعود بھی للہ کا منظوری دے دینا کوئی اتفاقی حادثہ نہ تھا بلکہ عین اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق تھا۔ورنہ اس موقع پر آپ کی جو حالت تھی وہ پروفیسر محبوب عالم خالد صاحب کے اس بیان سے واضح ہوتی ہے وہ کہتے ہیں۔۱۹۴۴ء کے ابتدائی ایام میں محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب محترمہ بیگم صاحبہ کے علاج کے سلسلہ میں دہلی میں مقیم تھے۔ایک بزرگ نے مجھ سے ذکر کیا کہ ان دنوں تعلیم الاسلام کالج کے انتظامات ہو رہے ہیں اور پرنسپل کے تقریر کا سوال ہے۔انہیں لکھو کہ وہ اس