حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 152 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 152

137 موقع پر یہاں تشریف لائیں۔میں نے ناسمجھی میں آپ کی خدمت میں ایک عریضہ تحریر کر دیا۔چند دن کے بعد جواب موصول ہوا جس کا مفہوم یہ تھا کہ خالد! تم بچپن سے میرے ساتھ رہے ہو۔ابھی تک تمہیں یہ معلوم نہیں کہ ”میں نے کبھی کسی عہدہ کی خواہش نہیں کی۔كله میں تو ادنیٰ خادم سلسلہ ہوں۔" ۱۷ آپ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :۔" جب ۱۹۴۴ء میں تعلیم الاسلام کالج کی بنیاد پڑی اس وقت منصورہ بیگم بیمار تھیں حضرت صاحب نے ہم دونوں میاں بیوی کو بھیج دیا تھا دہلی علاج کے لئے۔میری غیر حاضری میں مجھے پر نسپل مقرر کر دیا۔" اس کی مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے ایک بار فرمایا :۔JAR ۱۹۴۴ء میں جب میں اپنی بیگم کی بیماری کی وجہ سے ان کے علاج کے لئے دہلی گیا ہوا تھا اچانک ایک دن ڈاک میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب عبیداللہ کا خط مجھے ملا کہ یہاں قادیان میں ایک کالج کھولنے کا فیصلہ ہوا ہے اور حضرت صاحب نے تمہیں اس کا پرنسپل مقرر فرمایا ہے۔میں بڑا پریشان ہوا کہ پہلے میں عربی بھول چکا تھا تو مجھے جامعہ میں لگا دیا گیا۔اب جب میرا ذہن کلی طور پر اس چیز کی طرف متوجہ ہو چکا ہے تو مجھے وہاں سے ٹرانسفر کر کے ایک انگریزی ادارے کا پرنسپل بنا دیا گیا ہے۔اس وقت ابھی صرف انٹر میڈیٹ کالج تھا خیر خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ اس ذمہ داری کو بھی نبھانے کی توفیق دے اور ہماری کوششوں میں برکت ڈالے۔ابتداء بالکل چھوٹے سے کام سے ہوئی۔اس جماعت پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس میں جو ساتھی ملتے ہیں وہ بڑے پیار کرنے والے تعاون کرنے والے ہوتے ہیں۔۱۹ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جتنے امتحانوں میں سے حضرت مصلح موعود نے آپ کو گزا را خواہ وہ متضاد سمتوں میں ہی ہوں آپ ان میں پورے اترے اور ان تمام چیلنجز