حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 150
135 ۱۹۴۴ء میں جب کالج بنا تو جامعہ احمدیہ سے نکال کے (میں واقف زندگی ہوں میں یہ واقعہ بتا رہوں۔ہر قدم پر ہر حکم میں نے بشاشت سے قبول کیا۔میں نے اپنی زندگی وقف کی تھی خدمت کے لئے اپنے آرام کے لئے نہیں کی تھی) کہا گیا کہ تم کالج کے پرنسپل لگ جاؤ۔خیر میں بن گیا ee پرنسپل ۱۴ کالج کمیٹی میں حضرت صاحبزادہ صاحب کی شمولیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں کالج شروع کیا گیا لیکن انگریز حکومت کے یونیورسٹی ایکٹ کے تحت اسے بند کرنا پڑا تھا۔رض حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے اپنی خلافت کے ابتدائی ایام میں ہی اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ جماعت کا اپنا کالج ہونا چاہئے چنانچہ ۱۹۱۴ء میں فرمایا :- ” اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ہمارا اپنا کالج ہو۔حضرت خلیفۃ المسیح اول کی بھی یہ خواہش تھی۔کالج ہی کے دنوں میں کریکٹر بنتا ہے سکول لائف میں تو چال چلن کا ایک خاکہ کھینچا جاتا ہے۔اس پر دوبارہ سیاہی کالج لائف ہی میں ہوتی ہے۔پس ضرورت ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کی زندگیوں کو مفید اور موثر بنانے کے لئے ایک کالج بنائیں۔» ۱۵ رم حضور کی یہ خواہش عملی طور پر جماعت کی تیسویں مجلس مشاورت پر پوری ہوئی جب کہ ۱۹۴۳ء میں حضرت مصلح موعود نے اس کی باقاعدہ تحریک فرمائی اور اس منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے مندرجہ ذیل احباب پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دی: قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے (صدر) حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایم اے (آکسن) حضرت مولوی محمد دین صاحب بی اے