حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 139
124 ایک بزرگ استاد تھے مولوی ارجمند خان صاحب۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے بڑی محنت سے ان کلاسز سے نوٹ تیار کئے تھے جنہیں ہمارے محترم بزرگ سید سرور شاہ صاحب یہ علم پڑھایا کرتے تھے۔خانصاحب کا خیال تھا کہ اگر کبھی موقع ملا تو وہ صحیح رنگ میں اس پرچہ کو پڑھایا کریں گے۔جب انہیں یہ پتہ چلا کہ ایک نوجوان جو ان مضامین سے دس سال تک آؤٹ آف ٹچ (غیر متعلق) رہا ہے اب ہمارا پر نسپل لگا دیا گیا ہے اور پھر جو فلسفہ کا مشکل ترین پرچہ ہے اس نے خود اپنے ذمہ لے لیا ہے تو وہ کچھ گھبرائے۔۔۔۔اور ایک دفعہ مجھے ملے تو کہنے لگے میاں صاحب آپ نے کیا ظلم کیا ہے۔پرچہ آپ کیسے پڑھائیں گے۔میں نے اس علم کے متعلق بڑی محنت سے نوٹ تیار کئے ہیں آپ یہ پرچہ مجھے دے دیں۔میں نے کہا نہیں۔میں نے نیت کر لی ہے کہ یہ پرچہ میں خود ہی پڑھاؤں گا باقی دیکھیں اب اللہ تعالی کیا کرتا ہے۔چنانچہ جب فلسفہ کا مضمون میں نے پڑھانا شروع کیا تو مجھے طلباء کو صرف یہ سمجھانے کے لئے کہ یہ مضمون آسان ترین مضمون ہے دو تین لیکچر دینے پڑے اور بتایا کہ یہ فلسفہ کا مضمون نہیں بلکہ تاریخ فلسفہ کا مضمون ہے جو آپ لوگ یہاں پڑھتے ہیں اور آپ کو اس امر کے معلوم کرنے کی کوشش کی ضرورت نہیں کہ آسمان ٹھوس ہے یا نہیں بلکہ صرف اتنا سمجھنا ضروری ہے کہ انسانی دماغ پر ایک دور ایسا بھی گزرا ہے کہ جس میں وہ ان باتوں کو صحیح تسلیم نہیں کرتا تھا لیکن بعد میں جب سائنس اور دیگر علوم نے ترقی کی اور ساتھ ہی انڈسٹری نے بھی ترقی کی اور وہ دوربین جن تک پہلے تخیل کی رسائی نہ تھی بننے لگیں اور انسان کو اس عالم کے متعلق نئے نئے انکشاف ہوئے تو اسے یقین ہو گیا کہ وہ پرانے خیالات ان نئے علوم میں فٹ ان (FIT IN) نہیں کرتے لیکن پہلے زمانہ میں لوگ اس طرح سوچا کرتے تھے پس اس رنگ میں میں نے