حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 133
118 سے ۱۹۴۷ء تک کالج قادیان میں رہا پھر بر صغیر کی تقسیم اور پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے از سر نو کالج کو لاہور میں بے سروسامانی اور نامساعد حالات میں شروع کرنا ނ پڑا۔سات سال تک کالج لاہور میں رہا۔دریں اثناء آپ کو خلیفہ وقت کی طرف ارشاد ہوا کہ کالج کی بلڈنگ ربوہ بنوا کر کالج کو ربوہ منتقل کیا جائے۔اس کے لئے آپ کو نہایت کٹھن مراحل میں سے گزرنا پڑا اور آپ کی استعدادیں کھل کر سامنے آئیں۔۱۹۵۴ء میں کالج ربوہ منتقل ہوا اور ۱۹۶۵ء تک آپ اس کے پرنسپل کے طور پر کار ہائے نمایاں سر انجام دیتے رہے۔اس راہ میں آپ نے ہر ایک چیلنج کو قبول کیا اور اپنی تمام طاقتیں کالج کی ترقی اور طلباء کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کر دیں۔جامعہ اور کالج جیسے تعلیمی اور تربیتی اداروں کو چلایا جب کہ جماعت کے ذرائع بالکل محدود تھے اور ۱۹۴۷ء میں تقسیم ملک کی وجہ سے اور ۱۹۵۳ء میں فسادات کی وجہ سے جو نازک صورت حال پیدا ہوئی۔اس کا آپ نے نہایت جواں مردی، عزم و ہمت، نظم و ضبط، حکمت اور غیر معمولی محنت اور دعاؤں اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کر کے مقابلہ کیا۔کالج کا نام علم اور سپورٹس کے میدان کے علاوہ متفرق سرگرمیوں میں روشن کیا اور آپ کی خدا داد قابلیت کی وجہ سے کالج ملک کے چوٹی کے کالجوں کی صف میں آکھڑا ہوا۔تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ آپ مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی قیادت بھی کرتے رہے۔یہ سلسلہ ۱۹۳۹ء سے ۱۹۵۴ء تک جاری رہا۔مجلس خدام الاحمدیہ کی صدارت جب آپ کے حوالے کی گئی تو اس وقت اس کی حالت ایک نوزائیدہ بچے کی ی تھی لیکن آپ نے اس کی اس طرح پرورش کی جس طرح ماں باپ اپنے پیارے بچے کی نشو نما کر کے اسے پوری استعدادوں کے ساتھ عالم شباب تک پہنچاتے ہیں۔مجلس خدام الاحمدیہ کے مخصوص کاموں کے علاوہ ہنگامی نوعیت کے کام بھی کرنے کا آپ کو خاطر خواہ موقع ملتا رہا اور الیکشن ، حفاظت مرکز باؤنڈری کمشن برائے پنجاب کے لئے دیہاتوں اور تحصیلوں اور ضلعوں کی بنیاد پر مسلمانوں کی تعداد کے اعداد و شمار اکٹھے کرنے اور جدوجہد آزادی کشمیر کے سلسلے میں فرقان بٹالین کے قیام کے لئے آپ کو اعلیٰ خدمات کی توفیق ملتی رہی۔جلسہ سالانہ پر آپ کی تقاریر کا آغاز قادیان کے زمانہ