حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 118 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 118

103 مسجد انگلستان میں پاکیزہ زندگی کے شواہد آکسفورڈ میں حضور کے قیام کے دوران ایک نو مسلم انگریز بلال نقل ۱۰۲ حضور کی پاکیزہ زندگی کو قریب سے دیکھ چکا تھا۔چنانچہ ۱۹۶۵ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی وفات پر ہزاروں میل دور بیٹھ کر اس نے کہا کہ حضور ہی تیسرے خلیفہ ہوں گے اس بارہ میں مکرم بشیر احمد صاحب رفیق سابق امام مسجد لندن انگلستان لکھتے ہیں:۔۱۹۶۵ء میں جب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا انتقال ہوا تو میں فضل لندن کا امام تھا۔مرکز سلسلہ سے ہزاروں میل دور ہم سب احمدیان برطانیہ مرکز کی طرف سے کسی خبر کی طرف کان لگائے بیٹھے دعاؤں میں مصروف تھے اور اس بات کا شدت اور بے قراری سے انتظار ہو رہا تھا کہ مسند خلافت ثالثہ پر کون متمکن ہوتے ہیں۔اس کیفیت میں جب جماعت کے بہت سارے احباب مشن ہاؤس لندن میں جمع تھے ہمارے انگریز مسلمان احمدی بھائی مسٹر بلال نثل مرحوم میرے پاس آئے اور کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ کون خلیفہ ہوں گے۔میں حیران ہوا کہ ان کو قبل از وقت کیسے معلوم ہوا کہ کون مسند خلافت پر رونق افروز ہو گا۔مسٹر نٹل نے ایک تصویر میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے شدت جذبات سے گلو گیر آواز میں کہا یہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد کی تصویر ہے جو انہوں نے لندن مسجد کے باغ میں کھینچوائی تھی اور مجھے مرحمت فرمائی تھی۔میں ان دنوں سے جب حضرت مرزا ناصر احمد صاحب آکسفورڈ کے طالب علم تھے ان کو جانتا ہوں ان کے بے حد قریب رہا ہوں اور تقویٰ اللہ حسن اخلاق اور عشق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی جو جھلک میں نے ان میں دیکھی وہ مجھے اس یقین محکم پر قائم کرتی ہے کہ اس منصب جلیلہ کے اس وقت وہی اہل ہیں اور جماعت یقیناً اس امانت کو ان کے ہی سپرد کرے گی۔مسٹر بلال نٹل