حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 97 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 97

82 مردہ ہیں۔اور صرف قرآن کریم کا علم زندہ ہے۔اگر ان باتوں کو تم ایک ایمانی کیفیت کے طور پر نہیں محسوس کرتے ہو۔بلکہ حق الیقین کی طرح اپنے وجود میں پاتے ہو۔اور ہمیشہ اس کا تازہ بتازہ مشاہدہ تم کو حاصل ہوتا ہے۔تو تم سمجھ لو۔کہ تمہارا قدم ایمان کے مقام پر رکھ دیا گیا ہے اب صرف عرفان اور سلوک کی منازل کا طے کرنا باقی ہے۔لیکن اگر ایسا نہیں۔اگر یہ امر تمہارے مشاہدہ میں ابھی نہیں آیا اگر ایک ایمانی احساس سے زیادہ اس حقیقت کو جامہ نہیں ملا۔تو سمجھ لو۔کہ ابھی منزل مقصود کا نشان بھی تم کو نہیں ملا اور ابھی تم دیار محبوب کے قریب بھی نہیں پھٹکے۔اس صورت میں ہوشیار ہو جاؤ۔کہ شیطان تمہارے قریب ہے۔اور ابلیس تم پر پنجہ مارنا ہی چاہتا ہے۔شائد میں اپنے مقصد سے دور ہو رہا ہوں۔میں تم کو یہ بتانا چاہتا تھا۔کہ سب علم قرآن کریم میں ہی ہے۔اور اس کی کنجی محبت الہی ہے۔جو خدا تعالیٰ سے محبت کرتا ہے۔اسے قرآن کریم کا علم دیا جاتا ہے اور جو اس کے قبضہ میں اپنے آپ کو دے دیتا ہے۔وہ اس کی عرفان کے دودھ سے خود پرورش کرتا ہے۔پس میں تم کو انگلستان کسی علم سیکھنے کے لئے نہیں بھجوا رہا۔کہ جو کچھ علم کہلانے کا مستحق ہے۔وہ قرآن کریم میں موجود ہے۔اور جو قرآن کریم میں نہیں۔وہ علم نہیں۔جہالت ہے۔میں مبالغہ سے کام نہیں لے رہا۔میں کلام کو چست فقرات سے مزین نہیں کر رہا۔بلکہ یہ ایک حقیقت ہے۔یہ ایک مشاہدہ ہے اور اس کے لئے میں ہر قسم کی قسم اٹھانے کے لئے تیار ہوں میرے کلام میں نقص کا احتمال تو ہو سکتا ہے۔لیکن مبالغہ کا نہیں۔وَاللَّهُ عَلَى مَا أَقُولُ شَهِيدٌ میں تم کو انگلستان بھجوا رہا ہوں اس غرض سے جس غرض سے رسول کریم میں لایا اور اپنے صحابہ کو فتح مکہ سے پہلے مکہ بھجوایا کرتے تھے میں