حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 98
83 اس لئے بھجوا رہا ہوں کہ تم مغرب کے نقطہ نگاہ کو سمجھو۔تم اس زہر کی گہرائی کو معلوم کرو۔جو انسان کے روحانی جسم کو ہلاک کر رہا ہے۔تم ان ہتھیاروں سے واقف اور آگاہ ہو جاؤ۔جن کو دجال اسلام کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔غرض تمہارا کام یہ ہے کہ تم اسلام کی خدمت کے لئے اور دجالی فتنہ کی پامالی کے سامان جمع کرو۔یہ مت خیال کرو کہ وہاں سے تم کچھ حاصل کر سکتے ہو۔وہاں کی ہر چیز آسانی سے یہاں مل سکتی ہے۔تم کو میں اس لئے وہاں بھیجوا رہا ہوں کہ تم وہاں کے لوگوں کو کچھ سکھاؤ۔اگر تم کوئی اچھی بات ان میں دیکھو۔تو وہ تم کو مرعوب نہ کرے۔کیونکہ اگر وہ مسلمانوں میں موجود نہیں۔تو اس کی یہ وجہ نہیں۔کہ وہ اسلام میں موجود نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے۔کہ مسلمانوں نے اسے بھلا دیا۔رسول کریم صلی اللہ فرماتے ہیں۔كَلِمَةُ الْحِكْمَةِ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ اَخَذَهَا حَيْثُ وَجَدَ آپ کے اس قول میں (فداہ نفسی و روحی) اس طرف اشارہ ہے۔کہ اسلام کے باہر کوئی اچھی شے نہیں۔اگر کوئی ایسی شے نظر آئے تو یا تو ہمارا خیال غلط ہو گا۔اور وہ شے اچھی نہیں۔بلکہ بری ہو گی۔یا پھر اگر وہ اچھی چیز ہو گی۔تو وہ ضرور قرآن کریم سے ہی لی ہوئی ہو گی۔اور مومن ہی کی کم گشتہ متاع ہوگی۔جو کچھ رسول کریم میں لایا کہ ہم نے فرمایا ہے۔میں اس کا ایک زندہ ثبوت ہوں۔میں گواہ ہوں۔اس راستبازوں کے بادشاہ کی بات کی صداقت کا۔پس ایسا نہ ہو۔کہ تم یورپ سے مرعوب ہو۔خدا تعالیٰ نے جو ہمیں خزانہ دیا ہے۔وہ یورپ کے پاس نہیں۔اور جو ہمیں طاقت دی ہے۔وہ اپنے حاصل نہیں۔تم ایک اسلام کے سپاہی کی طرح ہو جاؤ۔اور وہ سب کچھ اکٹھا کرو۔جو اسلام کی خدمت کے لئے مفید ہو۔اور کچھ کو لغو سمجھ کر چھوڑ دو۔جو اسلام کے خلاف ہے۔کیونکہ اس