حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 59
59 ایسا ہی نور حاصل اس نور عالم کو کو میں میں معطر کر دوں گا اس مک ނ خوشبو سے جس کی ہر دم مدہوش میں رہوں گا اخلاق میں میں افضل احمد کی ره علم سے کروں گا و ہنر میں اعلیٰ چل کر بدر الدجی بنوں گا سارے علوم کا ہاں منبع ہے ذات جس کی سے میں علم لے کر دنیا کو آگے اس دوں گا مجھ میں تڑپ وہ ہو گی بجلی بھی جھینپ جائے دل عشق سے بھروں گا اور بے قرار ہوں گا پھر برق میں بنوں گا جل کر میں خاک ہوں گا اکسیر جو بنا دے اکسیر میں جو کچھ کہوں زبان ہو رحم اے 02 ہوں گا ناصر میں کر دکھاؤں خدایا تا تیرے فضل پاؤں خدمت دین کی تڑپ مرزا ناصر احمد بچپن میں خدمت دین کی جو لگن آپ کو تھی اس کا ذکر آپ نے اپنی ایک نظم میں بھی کیا جو آپ نے اپنے زمانہ طالب علمی کے دوران لکھی وہ نظم یوں ہے۔اے عیسی کو چرخ پر نہ بٹھاتے تو خوب تھا احمد کو خاک میں نہ سلاتے تو خوب تھا زندہ خدا سے دل کو لگاتے تو خوب تھا۔مردہ بتوں سے جان چھڑاتے تو خوب تھا قصے کہانیاں نہ سناتے تو خوب تھا زنده نشان کوئی دکھاتے تو خوب تھا اپنے تئیں جو آپ ہی مسلم کہا تو کیا مسلم بنا کے خود کو دکھاتے تو خوب تھا تبلیغ دین میں جو لگا دیتے زندگی بے فائدہ نہ وقت گنواتے تو خوب تھا