حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 712
662 کیلگری کے مقام پر ایک خطاب کرتے ہوئے فرمایا :۔”اگر تیسری جنگ کی شکل میں سروں پر منڈلانے والی مکمل تباہی سے بچنا چاہتے ہو تو ایک ہی خاندان کے افراد کی طرح باہم مل کر زندگی گزارو۔سب کو یکسان درجہ دو اور سب کے یکساں حقوق تسلیم کرو۔ابھی وقت ہے ہمیں آج کچھ کرنا چاہئے تاکہ مستقبل میں اپنی دانش مندی اور دور اندیشی کی وجہ سے ہم نہیں اور خوش ہوں نہ کہ اپنی حماقتوں پر آنسو بہائیں۔خدا ہمیں اس کی توفیق دے"۔۱۹۸۰ء میں یورپ ، امریکہ اور افریقہ کے تاریخی دورہ سے واپس آکر جلسہ سالانہ ربوہ کے موقع پر حضور نے جماعت کو اس سے قبل دیئے ہوئے دو مائوز (1) حمد (ii) عزم میں دو مزید ماٹوز کا اضافہ فرمایا جو (III) محبت و پیار اور (IV) ہمدردی و خیر خواہی ہیں جس طرح حضور کی تمام تحریکات ایک طرف انسان کی جسمانی۔ذہنی۔اخلاقی اور روحانی قومی کی نشو و نما کا سامان کرتی ہیں وہاں ان کا خلاصہ ، حمد ، عزم ، محبت و پیار اور ہمدردی و خیر خواہی سے بہتر الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔حمد اور عزم کے مائوز کا ذکر ”صد سالہ احمد یہ جوبلی منصوبے" کے تحت بھی ہو چکا ہے جس کا اعلان حضور نے ۱۹۷۳ء کے جلسہ سالانہ پر کیا تھا۔محبت و پیار" اور ” ہمدردی و خیر خواہی" کے ماٹوز حضور نے پندرھویں صدی ہجری کے پہلے جلسہ سالانہ پر جماعت کو دیئے تھے جو ۱۹۸۰ء میں منعقد ہوا تھا۔حضور نے فرمایا:۔تھا۔" چھلی صدی میں میں نے احباب جماعت کو حمد اور ”عزم“ کا ماٹو دیا پندرھویں صدی کے عظیم الشان مائوز۔۔۔۔پہلا مائو ”محبت و پیار"۔۔۔۔ہم نے محبت و پیار سے دنیا بھر کے دل خدا اور محمد ملی تعلیم کے لئے