حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 701
651 مقام ہے) اسے مت بھولو۔یہ درس سیکھنے کے لئے آپ دوستوں کو یہاں جمع کیا جاتا ہے جو پیار کرنے کا اور دکھوں کو دور کرنے کا مقام، جو بے نفس خدمت کا مقام آپ کو عطا ہوا ہے اسے ہمیشہ یاد رکھو۔۔۔۔۔۔۔اور خدا کرے کہ جس غرض کے لئے اس نے ایک احمدی کو پیدا کیا ہے وہ ہمیشہ اس کی آنکھوں کے سامنے رہے اور ہمیشہ اس کے جوارح سے وہ ظاہر ہوتی رہے اور اس کے عمل سے پھوٹ پھوٹ کر نکلتی رہے۔اللهم آمین» ۹ی حضرت خلیفۃ المسیح الثالث " کی حرم اول حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ کی دسمبر ۱۹۸۱ء میں وفات ہوئی اور الہی منشاء کے مطابق حضور نے حضرت سیدہ طاہرہ صدیقہ صاحبہ کے ساتھ اپریل ۱۹۸۲ء میں عقد ثانی فرمایا۔نکاح سے قبل حضور نے کچھ نکات لکھ کر انہیں بھجوائے جس میں انہیں عاجزی اور انکساری کا سبق دیا۔چنانچہ سیدہ طاہرہ صدیقہ صاحبہ لکھتی ہیں۔”شادی سے دو تین روز قبل مجھے کچھ پوائنٹس لکھ کر بھجوائے۔فرمانے لگے۔میں ابھی سے اس کی تربیت شروع کر دوں اور پہلا درس آپ نے مجھے یہی دیا کہ خدا تعالیٰ عاجزی کو پسند کرتا ہے چنانچہ مندرجہ ذیل تین فقرات آپ نے مجھ کو لکھ کر بھجوائے۔ا خدا تعالیٰ عاجزانہ راہوں کو پسند کرتا ہے ۲۔جو خاک میں ملے اسے ملتا ہے آشنا۔میں خاک تھا اسی نے ثریا بنا دیا ۵۰ حضور نے 9 مئی ۱۹۶۹ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔" حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے۔۔۔۔۔جو خلاصہ نکالا ہے وہ یہ ہے کہ اس اصلی اور بنیادی دعا کے لئے دو چیزوں کا تصور ضروری ہے۔ایک اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کا تصور دوسرا تصور یہ ہے کہ میں کچھ نہیں۔یہ اپنی ذلت اور نیستی کا تصور ہے۔دراصل