حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 699 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 699

649 جلسہ سالانہ ربوہ ۱۹۷۵ء کے افتتاحی خطاب میں حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت اور غیر معمولی حالات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تبلیغ کے دنیا کے کناروں تک پہنچنے کا ذکر کیا اور جماعت کو اس موقع پر بڑے ہی پیارے اور والہانہ انداز میں عجز و انکساری کا سبق دیا جو سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے۔حضور نے فرمایا :- " یہ ایک حقیقت ہے کہ ہو گا وہی جو خدا چاہے گا اور خدا نے جو چاہا اس کی اطلاع اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آج سے چودہ سو سال پہلے دی۔خدا نے یہ چاہا کہ دنیا مهدی علیہ السلام کے مقام عزت و احترام کو پہچانے اور اس نے محمد رسول اللہ علی الم کو کہا کہ دنیا کو کہو کہ مهدی کی عزت اور احترام کرے چنانچہ آپ نے ساری امت میں سے ایک کو یعنی مہدی کو منتخب کر کے اسے سلام پہنچایا۔۔۔۔پھر یہ خدا کی شان اور خدا تعالیٰ کی قدرتوں کے نظارے ہیں کہ وہ جسے گھر والے روٹی دینا بھول جاتے تھے (حالانکہ وہ ان کی دولت میں ان کا برابر کا شریک تھا) اور اسے اپنے ہی عزیزوں اور رشتہ داروں کی غفلت کے نتیجہ میں فاقہ کشی کرنی پڑتی تھی اسے اس کے خدا نے کہا کہ ” میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا" اور وہ اکیلا اور غیر معروف شخص اٹھا اور اس کی تبلیغ دنیا کے کناروں تک پہنچ گئی۔اس موقع پر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام غیر ملکی احباب کو جو وفود کی صورت میں جلسہ میں شامل ہوئے تھے کھڑے ہونے کا ارشاد فرمایا۔حضور کے ارشاد کے مطابق تمام غیر ملکی احباب کھڑے ہو گئے۔اس دوران جلسہ گاہ نعرہ ہائے تکبیر اور اسلامی عظمت کے دوسرے نعروں سے گونج اٹھی) یہ لوگ امریکہ سے آنے والے ہیں جو کہ مغرب کی طرف غالبا نو