حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 698 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 698

648 اس بارے میں ایک لمبی حدیث بیان کرنے کے بعد فرمایا:۔خلاصہ یہی ہے کہ جس طرح عجز کے ساتھ دنیا سے کلیہ منہ موڑ کر اور خالصتا اپنے رب کے حضور حاضر رہ کر آنحضرت میم نے زندگی گزاری ہے اور جس طرح آپ بنی نوع انسان کے لئے محض شفقت اور محض رحمت تھے اسی طرح کی زندگی اگر ہم بھی گزارنے کی کوشش کریں۔یعنی ایک طرف ہم حقوق اللہ کو ادا کرنے کی کوشش کریں اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کے بندوں کے حقوق کا بھی لحاظ رکھنے والے ہوں اور ان پر شفقت اور رحم کرنے والے ہوں، ان سے پیار کرنے والے ہوں، ان کے کام آنے والے ہوں اور اپنی دعاء اور تدبیر کے ساتھ ان کے دکھوں کو دور کرنے والے ہوں، تب اللہ تعالی محض اپنے فضل کے ساتھ ، محض اپنے فضل کے ساتھ ، محض اپنے فضل کے ساتھ ہمیں اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لے گا کیونکہ اس کے فضل کے بغیر ہماری ee نجات ممکن نہیں ۴۷۴ ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔اگر ہم نے اللہ تعالیٰ کے ان وعدوں کا وارث بننا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہمیں دیئے گئے ہیں، تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے مقام عبودیت کو ہمیشہ پہچانتے رہیں اور عجز و فروتنی کے ساتھ اپنے کو لاشئے محض جانتے ہوئے اپنے خیالات اور خواہشات کو مٹا کر محض اللہ تعالیٰ کی رضاء کی خاطر خدمت کرتے چلے جائیں اور اپنے کو اتنا حقیر جانیں کہ کسی اور چیز کو ہم اتنا حقیر نہ سمجھتے ہوں۔اگر ہم اپنے اس مقام کو پہچاننے لگیں تو پھر ہمارا خدا جو بڑا دیالو" ہے ہمیں اپنے فضل سے بہت کچھ دے گا انفرادی طور پر بھی اور جماعتی طور بھی ۸ حضور" ہر موقع پر جماعت کو عجز و انکساری اختیار کرنے کی تحریک فرماتے رہے۔