حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 697
647 اسی طرح مغربی پاکستان میں سیلاب کے دوران احمدی خدام کے ذریعے متاثر افراد کی امداد فرمائی اور اس سلسلہ میں احمدی نوجوانوں کو خطرات میں پڑ کر متاثر افراد کی جان اور مال بچانے کے لئے عملی طور پر تیار کیا۔حضور نے ایک مرتبہ جب که حضور بیرون ملک تشریف لے گئے تھے کوپن ہیگن سے جماعت کے نام پیغام بھیجتے ہوئے فرمایا :۔پاکستان کی سلامتی اور سیلاب زدگان کی امداد کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے رہیں ۴۶ عجز و انکساری پیدا کرنے کی تحریک جب انسان کے دل میں اپنے پیدا کرنے والے رب کے ساتھ انتہائی عشق ہو تو اپنی ذات کا خیال اس کے دل سے محو ہو جایا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے تصور سے اس کے اندر انتہائی عجز و انکسار اور تذلل کا احساس اور قربانی کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے اور اس کیفیت کے ساتھ انسان کبھی ناکام نہیں ہوا کرتا۔یہی کیفیت حضرت خلیفة المسیح الثالث " کی تھی۔حضور عجز و انکساری کا مجسمہ تھے اور حضور کی یہ خواہش اور کوشش تھی کہ ساری جماعت عجز اور انکساری کے مقام کو اختیار کرے حضور نے اپنی عاجزی اور انکساری کا اظہار مسند خلافت پر متمکن ہونے پر اپنے پہلے تاریخی خطاب ہی میں کیا اور اپنی خلافت کے ابتدائی ایام ہی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہزاروں الہامات میں سے جس الہام کو اپنی زندگی کا ماٹو قرار دیا اور جس ماٹو کو جماعت کے نوجوانوں اور بچوں کو بھی اختیار کرنے کی تحریک فرمائی وہ یہ تھا:۔" تیری عاجزانہ راہیں اسے پسند آئیں" ( تذکرہ ص ۷۰۵ چوتھا ایڈیشن) اپنی خلافت کے ابتدائی زمانہ میں حضور نے ۲۱ جنوری ۱۹۶۶ء کے خطبہ جمعہ میں اس بات پر زور دیا کہ نجات محض اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے اور آنحضرت میر کی