حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 574 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 574

523 مردانہ اور زنانہ جلسہ گاہ میں دو دو مترجم کیبن بنائے گئے ہیں جہاں پر ترجمہ کرنے والا بیٹھتا ہے اور ہیڈ فون کے ذریعے جو کہ اس کے کانوں پر لگے ہوتے ہیں اردو تقریر سن کر اس کا انگریزی یا انڈونیشین زبان میں ترجمہ کرتا ہے جو کہ سامعین کے کانوں تک ہیڈ فون کے ذریعے پہنچادی جاتی ہے مردانہ جلسہ گاہ میں مرد ترجمہ کرتے ہیں اور زنانہ جلسہ گاہ میں خواتین مترجم کے فرائض سر انجام دیتی ہیں تاہم جو تقریریں مردانہ جلسہ گاہ سے عورتوں کی جلسہ گاہ میں ریلے کی جاتی ہیں ان کا ترجمہ بھی مردانہ جلسہ گاہ سے ہی ریلے کیا جاتا ہے۔اس سارے نظام کے منتظم اعلیٰ مکرم منیر احمد صاحب فرخ ہیں جن کے ساتھ ملک لال خان صاحب اور مکرم کیپٹن ایوب احمد ظہیر صاحب نے کام کیا ہے۔کیبن بنانے اور لکڑی وغیرہ کا کام مکرم عبدالکریم صاحب لودھی نے سر انجام دیا ہے جب کہ نظام کی فنی درستگی میں اس وقت محمود مجیب اصغر صاحب۔مبشر احمد صاحب گوندل اور منصور محمد شهر ما صاحب نائب کے طور پر کام کر رہے ہیں۔اس نظام کو چلانے کے لئے مردانہ جلسہ گاہ میں ۱۸۔افراد ڈیوٹی دے رہے ہیں۔جبکہ زنانہ جلسہ گاہ میں یہ نظام چلانے والی خواتین کی تعداد ۱۶ ہے جن کی انچارج مکرمہ امتہ الجمیل صاحبہ ہیں جو کہ خود ترجمہ بھی کرتی ہیں۔احمدی خواتین کی فنی سوجھ بوجھ اور ذہانت کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ زنانہ جلسہ گاہ میں یہ سارا انتظام مکرم منیر احمد صاحب فرخ کی زیر نگرانی خواتین نے مکمل طور پر نصب کیا ہے اور اب وہ اسے خود ہی نہایت کامیابی کے ساتھ چلا رہی ہیں۔منصوبہ فضل عمر فاؤنڈیشن کی مالی معاونت اور محترم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی سرپرستی میں تکمیل کو پہنچا ہے۔مکرم منیر احمد صاحب فرخ نے بتایا اس سارے کام پر ایک لاکھ سے