حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 507
454 پڑھے ہوئے نہیں اور یہ کام باقاعدہ ایک نظام کے ماتحت ہو اور اس کی اله اطلاع نظارت متعلقہ کو دی جائے۔؟ حضور نے موصیان کا ابتدائی اور بنیادی کام ہی تعلیم القرآن قرار دیا اور فرمایا :۔”جہاں تک موصیان کے لئے ابتدائی کام کرنے کا سوال تھا میں نے یہ کام ان کے ذمہ لگایا تھا کہ تمہارے گھر میں بڑا ہو یا چھوٹا مرد ہو یا عورت کوئی بھی ایسا نہ رہے جو قرآن کریم کے پڑھنے کی عمر کو پہنچا ہو لیکن قرآن کریم پڑھ نہ سکتا ہو یا ترجمہ جاننے کی عمر کو پہنچا ہو مگر ترجمہ نہ جانتا ہو یا عام روز مرہ زندگی سے تعلق رکھنے والی تفسیر قرآن کا اسے علم et نہ ہو کال موصیان کے کام کے بارے میں مزید فرمایا:۔" وہ اپنی جماعت کی نگرانی کریں (عمومی نگرانی امیر یا پریذیڈنٹ ساتھ تعاون کرتے ہوئے کریں۔کہ نہ صرف ان کے گھر میں بلکہ ان کی جماعت میں بھی کوئی مرد اور کوئی عورت ایسی نہ رہے جو قرآن کریم نہ جانتی ہو۔ہر ایک عورت قرآن کریم پڑھ سکتی ہو ترجمہ جانتی ہو۔اسی طرح تمام مرد بھی قرآن کریم پڑھ سکتے ہوں ترجمہ بھی جانتے ہوں اور قرآن کریم کے نور سے حصہ لینے والے ہوں تاکہ قیام احمدیت کا مقصد پورا ہو امراء اضلاع کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :۔" میں تمام امراء اضلاع کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے ضلع کی ہر جماعت میں قرآن کریم پڑھانے کا باقاعدہ ایک نظام کے ماتحت انتظام کریں اور ہر دو ماہ کے بعد مجھے اس کی رپورٹ بھیجوایا کریں۱۹ ذیلی تنظیموں کو بھی حضور نے تعلیم القرآن کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا چنانچہ انصار الله کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:۔" انصار اللہ کو آج میں یہ کہنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔آپ ان ذمہ داریوں