حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 486 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 486

431 صاحب اور مرزا منصور احمد صاحب کے گھروں کے آگے سے گزرتا ہوا خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھروں احاطہ کے جنوبی گیٹ سے بڑی سڑک پر آیا اور گولبازار کی سمت مڑ گیا اس کے بعد جنازہ مسجد مبارک کے سامنے والی دو رویہ سڑک میں سے دفاتر صدر انجمن احمدیہ سے متصل سڑک پر مڑگیا۔وہاں سے سرگودھا فیصل آباد روڈ پر آیا۔جہاں ساری ٹریفک روک دی گئی تھی۔اس سڑک سے چند منٹ گزرنے کے بعد جنازہ بہشتی مقبرہ کے غربی گیٹ سے احاطہ بہشتی مقبرہ میں داخل ہوا جہاں پر قریباً ایک لاکھ احمدی پہلے سے قطاروں میں بڑی ترتیب کے ساتھ اپنے محبوب آقا خلیفة المسیح الثالث" کے سفر آخرت کے آخری مرحلہ میں شامل ہونے کی سعادت سے بہرہ ور ہونے کے منتظر تھے۔جنازہ جن جن جگہوں سے گزرا اس کے دونوں اطراف برقع پوش خواتین کی بڑی وہ تعداد بھی موجود تھی، خواتین کو بہشتی مقبرہ کے اندر جانے کی اجازت نہ تھی۔جنازہ پونے چھ بجے احاطہ بہشتی مقبرہ پہنچا نماز جنازہ کے بعد احباب کو کہا گیا کہ و اپنی اپنی جگہ پر کھڑے رہیں اور درود شریف اور لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ کا ورد کرتے رہیں۔۱۰ جون ۱۹۸۲ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے پیشرو خلیفہ نافله موعود حضرت مرزا ناصر احمد رحمہ اللہ تعالیٰ کی بہشتی مقبرہ ربوہ میں نماز جنازہ پڑھائی۔تقریباً ایک لاکھ احمدی نماز جنازہ میں شامل ہوئے۔اس کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثالث" کے جسم اطہر کو بہشتی مقبرہ کے احاطہ واقع چار دیواری کے اندر حضرت مصلح موعود بھی اللہ اور حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ کی قبروں کے درمیان سپرد خاک کیا گیا ہے۔تدفین مکمل ہونے پر حضرت خلیفہ" ا الرابع کی اقتداء میں ایک لاکھ احمدیوں نے دعا کی۔رات گئے تک حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے مزار پر دعا کرنے والوں کا سلسلہ جاری رہا۔چھ بج کر تین منٹ پر تابوت چار دیواری کے اندر رکھا گیا اور اس کے بعد لحد میں اتارا گیا۔تدفین مکمل ہونے اور قبر تیار ہونے کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الرابع ایدہ اللہ