حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 348 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 348

333 پڑ جاتا ہے جس وقت ایک جنس سال میں سب سے سستی ہے اس وقت اس کو خرید کر سٹور کرنا یہ ہماری ذمہ داری ہے۔اس کی طرف توجہ کریں اور یہ برکت ہے۔ہمیں خدا تعالیٰ نے یہ عقل اور فراست دی ہے کہ خدا کے مال کو ضائع نہیں ہونے دینا۔۶۲۔مہمانوں کے لئے ہنگامی طور پر بھی کھانے پینے کی چیزیں منگواتے ہوئے آپ کو سلسلہ کے پیسے کا خاص احساس ہو تا تھا چنانچہ مکرم فضل دین صاحب اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ”ایک دفعہ میں تحریک جدید کے دفتروں میں رنگ کر رہا تھا کہ پیغام آیا کہ جلدی آکر بات سن جاؤ۔چونکہ میرا کام زیادہ تھا اور ۲۲ دسمبر دن کے دو بجے کی بات ہے میں نے پیغام لانے والے کو جواب دیا کہ مجھے فرصت نہیں۔وہ دوسری دفعہ آیا تو بھی یہی جواب دیا۔جب تیسری بار آیا تو محمد یعقوب میرے چھوٹے بھائی نے کہا کہ بھائی جا کر پتہ کر کہ کیا کام ہے؟ جب میں ریلوے پھاٹک پر پہنچا تو کالج کی طرف سے کالی موٹر دوڑی آ رہی تھی۔وہ آدمی بھی میرے ساتھ تھا جو پیغام لے کر آیا تھا۔کار میں صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب سوار تھے فرمایا۔شریف اس کا سائیکل تم لے کر انصار اللہ کے دفتر آ جاؤ۔مجھے کار میں بٹھا لیا اس میں چوہدری ظہور احمد صاحب ناظر دیوان اور عبد اللطیف صاحب بھٹہ والے بھی تھے۔جب انصار اللہ کے دفتر پہنچے تو معلوم ہوا کہ جلسہ سالانہ کے آلو، ادرک، پیاز، لہسن، ہر چیز لانی ہے اور ساتھ ہی فرمایا کہ چیزیں مہنگی نہ ہوں اور اگر یہ چیزیں کل بارہ بجے تک نہ آئیں اور جلسہ سالانہ کے مہمانوں کو کھانا نہ ملا تو مہمان تجھے دعائیں نہیں دیں گے۔" اسی طرح کا ایک اور واقعہ فضل دین صاحب بیان کرتے ہیں کہ انہیں جلسہ سالانہ کے لئے پتھر کا کوئلہ منگوانے کے لئے بارش میں دور بھجوایا جہاں انہیں ٹرین پر اور بارش میں دور تک پر خطر رستے پر پیدل جانا پڑا اور اگلے روز نصف شب کو ان کے