حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 302
287 اس موقع پر بعض مصالح کی بناء پر حضرت مصلح الموعود بھی اللہ نے خدام الاحمدیہ کی صدارت کی ذمہ داری خود سنبھال لی اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو نائب صدر اول بنا دیا اس طرح آپ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ خلیفہ وقت کی صدارت خدام الاحمدیہ میں براہ راست آپ کو نائب صدر کے طور پر کام کرنے کی سعادت حاصل ہوئی اور مقدس باپ اور اس بیٹے نے چھ سال تک بالترتیب صدر اور نائب صدر کے طور پر کام کیا اور اس ذیلی تنظیم میں ایسی روح ڈالی اور اس کو ایسی ٹھوس بنیادوں پر استوار کیا کہ خدمت کے لحاظ سے تمام ذیلی تنظیموں میں سے یہ اہم ترین تنظیم بن گئی۔جہاں تک خدام الاحمدیہ کی تنظیم اور حفاظت مرکز کا کام ہے حضرت مصلح موعود نے حضرت صاحبزادہ صاحب کے کام کو سراہا لیکن اس میں دینی روح کو زیادہ پختہ بنیادوں پر قائم کرنے کے لئے حضرت مصلح موعود نے مناسب خیال فرمایا کہ کچھ عرصہ خود اس کی صدارت فرمائیں۔چنانچہ اس بارے میں حضرت مصلح موعود نے جلسہ سالانہ ۱۹۴۹ء کے موقع پر فرمایا۔احباب کو علم ہو گا کہ میں نے مجلس خدام الاحمدیہ کی صدارت خود سنبھال لی ہے۔میں نے یہ قدم اس لئے اٹھایا ہے کہ نوجوانوں کو زیادہ تر دین کی طرف مائل کیا جائے۔جہاں تک تنظیم اور حفاظت مرکز کا تعلق ہے خدام الاحمدیہ نے اچھا کام کیا ہے لیکن اس کے قیام کی غرض یعنی نوجوانوں میں صحیح دینی روح پیدا کی جائے پوری نہیں ہوئی۔حقیقت یہ ہے روحانی جماعتوں کا اوڑھنا بچھونا سب روحانی ہوتا ہے۔اس میں کوتاہی ہو جائے تو اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے اس وجہ سے قدارت میں نے خود سنبھال لی ہے تاکہ میں خود براہ راست ان کی ee نگرانی کر سکوں۔۲۹ چنانچہ ۱۹۴۹ء سے ۱۹۵۴ء تک آپ حضرت مصلح موعود کی صدارت میں نائب صدر کے طور پر کام کرتے رہے حتی کہ آپ نے نے نومبر ۱۹۵۴ء کو انصار اللہ کے صدر ہو گئے۔