حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 296
281 دورہ کیا اور بالخصوص پنجاب میں گھر گھر تشریف لے جا کر نوجوان احمدیوں کے والدین کو تحریک فرمائی کہ وہ اپنے جگر گوشے اس جہاد کے لئے دیں یہ ایسا مسئلہ تھا کہ پلیٹی نہیں کر سکتے تھے۔نہ ہی حضرت مصلح موعود رضی اللہ خطبہ میں اس کی تحریک فرما سکتے تھے اس لئے جس سرعت سے آپ نے اس تنظیم کو قائم فرمایا اور ماہ ڈیڑھ ماہ میں سرائے عالمگیر کے قریب پہلا کیمپ جاری کر دیا اس میں آپ کی انتہائی قابلیت اور اعلیٰ صلاحیتوں کا دخل ہے۔نہایت شفقت اور حکمت کے ساتھ بٹالین کو ٹھوس بنیادوں پر قائم کر دیا اور تین مرتبہ اسے Reinforce کیا۔فرقان بٹالین کا تصور اس کو عملی جامہ پہنانا اور اسے کامیابی سے چلانا اور کامل استغناء کا یہ عالم کہ کبھی خود بھی اس کا ذکر نہ کرنا نہ کسی کو اجازت دینا کہ آپ کی خاموش محنت اور عظیم کام کی تشہیر کرے۔راجہ غالب احمد صاحب ہی بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۴۸ء میں جب پہلی بار بٹالین محاذ پر گئی اس وقت حضرت مرزا ناصر احمد صاحب ان کے ماموں خالد احمدیت ملک عبدالرحمان صاحب خادم کے پاس گئے اور انہیں تحریک کی کہ راجہ غالب احمد کو چھٹیاں ہیں انہیں فرقان بٹالین کے لئے بھیجیں۔غرضیکہ گھر گھر جا کر نہایت تدبر اور حکمت سے رضا کار تیار کرنا آپ کا ہی کام تھا آپ کو اس وقت جو فوجی اشارات میں نام دیا گیا وہ عالم کباب " تھا اور اس نام میں بھی ایک خفیہ حکمت معلوم ہوتی ہے۔۔۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی عظیم رہنمائی میں آپ کو جس احسن رنگ میں رضا کاروں کو مہیا کرنے ، سپلائی بہم پہنچانے اور جملہ امور میں فرقان بٹالین کی زبردست خدمات سرانجام دینے کی توفیق ملی اس کی نظیر بہت کم ملتی ہے۔اطاعت خلافت کا ایک ناقابل فراموش واقعہ " محترم ثاقب زیروی صاحب مدیر ہفت روزہ ”لاہور " لکھتے ہیں۔۱۹۴۸ء کی دوسری ششماہی کا واقعہ ہے۔یہ عاجز ان دنوں حضرت المصلح موعود کے ساتھ پریس اتاشی کے طور پر منسلک تھا۔حضرت مصلح موعود ان دنوں رتن باغ (لاہور) ہی میں فروکش تھے کہ ایک دن