حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 197
182 اطمینان، ایک جیسی رعنائی و بے نیازی، ایسے اہل وقار، ایسے فخر دیار ایسے مولا کے یار ایسے حق پر نثار کسی بزرگ کی دعا کا ثمرہ ہی ہو سکتے تھے۔یہ دونوں مہدی کے لخت جگر تھے۔ایک بیٹا دوسرا نافلہ جو بیٹے کے عوض ملا تھا۔حالات ایسے تھے کہ مصافحہ و معانقہ کے بعد میری طبیعت میں رقت پیدا ہوئی مگر ان دسکتے چہروں پر نظر پڑی تو ملال یا شکوہ یا زبوں حالی کا شائبہ تک نہ تھا بلکہ ایک گونہ اطمینان اور شکر و امتنان کا اظہار نمایاں تھا۔۔۔۔۔۔۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب ( تیرا شریف اصغر) اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ( خدا تعالیٰ ہر دو کے مقامات بلند کرے) سے میری یہ پہلی ملاقات نہ تھی مگر یادگار ملاقات تھی۔در ثمین سے جب بھی ”محمود کی آمین" کے اشعار پڑھے جاتے ہیں اور یہ بند آتا ہے کہ اہل وقار ہوویں فخر دیار ہو دیں مولا کے یار ہوویں حق پر نثار ہوویں تو مجھے اور چہروں کے علاوہ سنٹرل جیل لاہور کے ملاقات کے کمرہ میں دکھنے والے یہ دو چہرے ضرور یاد آ جاتے ہیں اور اہل وقار اور فخر دیار اور مولا کے یار لوگوں کا حق پر نثار ہونا بھی واضح ہو جاتا ہے۔جیل میں ان اسیروں سے سب سے پہلے ملاقات کرنے والا غالبا میں ہی تھا۔۵۵۰ محترم چوہدری محمد علی صاحب بیان کرتے ہیں:۔" جب حضور جیل میں تھے تو عاجز ملاقات کے لئے جیل میں حاضر ہوا۔حضور اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب۔۔۔ملاقات کے کمرے میں تشریف لائے تو سپرنٹنڈنٹ جیل احتراماً کھڑے ہو گئے۔دونوں بزرگ کرسیوں پر تشریف فرما ہوئے تو یوں لگا جیسے دو حسین و جمیل خوشبو دار خوش رنگ پھول کسی ویرانے میں کھل اٹھے ہوں۔ایسے