حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 187 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 187

172 اسلام آباد میں مغرب و عشاء کی نمازوں کے بعد مجلس عرفان میں اپنی گرفتاری کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت آپ لاہور میں تھے صاحبزادہ مرزا لقمان احمد پیدا ہونے والے تھے اور آپ اپنی بیگم سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ کو ہسپتال داخل کروا کر آئے۔تجد کی نماز پڑھ کر تکیے پر سر رکھا ہی تھا کہ الہاما بتایا گیا کہ گرفتاری ہونے والی ہے اور اس سے چند ہی لمحوں کے بعد ملٹری آگئی اور اس نے تلاشی لینا چاہی۔آپ نے فرمایا کہ جب وہ آپ کی شیروانی کی جیبوں میں ہاتھ ڈالنے لگے جو الماری میں کھونٹی کے ساتھ لٹک رہی تھی تو اس کی ایک جیب میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب میں اللہ کا ایک خط تھا جس میں اگرچہ کوئی ایسی بات نہیں تھی جس سے کوئی خطرہ لاحق ہو تا لیکن آپ پسند نہیں کرتے تھے کہ وہ خط تلاشی لینے والا افسر پڑھے۔جب تلاشی لینے والے افسر نے ایک جیب کی تلاشی لی اور اپنا ہاتھ دوسری جیب میں ڈالنا چاہا جس کے اندر خط تھا تو شیروانی جیسے گھوم گئی اور اس کا ہاتھ پھر پہلی جیب میں چلا گیا اور اس طرح دو تین مرتبہ ہوا اور اللہ تعالیٰ کی حکمت سے وہ خط ان کے ہاتھ نہ لگا۔گرفتاری کی قبل از وقت اطلاع آپ کے صاحبزادے مرزا انس احمد صاحب روایت کرتے ہیں کہ جو فوجی افسر آپ کو پکڑنے آئے ان کو آپ نے فرمایا ” مجھے تو آپ کے آنے کا پتہ تھا میں تو انتظار کر رہا تھا آپ نے دیر کر دی۔" قید کے دوران ایک معجزہ آپ کے بڑے صاحبزادے مرزا انس احمد صاحب روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ایک مرتبہ بیان فرمایا کہ قید کر کے جس کمرے میں پہلے پہلے آپ کو رکھا گیا وہ بہت تنگ تھا اور اس میں بالکل ہوا نہیں آتی تھی۔آپ نے دل میں دعا کی کہ اے اللہ ! ہم تیری رضا پر راضی ہیں لیکن اگر اس وقت ذرا ہوا چل پڑے تو گرمی کی شدت کم ہو اور آپ کو کچھ نیند آجائے۔