حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 153 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 153

138 کو قبول کیا اور ایسے احسن رنگ میں ان تمام ذمہ داریوں کو نبھایا کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔آکسفورڈ سے فراغت کے بعد آپ کو عربی اور دینی مضامین پڑھانے پڑھے اور اسی دوران چھ ماہ کے لئے سکول کے ہیڈ ماسٹر لگا دیئے گئے اور جب جامعہ میں آپ پانچ چھ سال پڑھا چکے تو یکدم وہاں سے ہٹا کر آپ کو کالج کا پرنسپل لگا دیا گیا اور جیسا کہ آگے کالج کے حالات میں بعض تفاصیل آئیں گی آپ نے کچھ اس رنگ میں کالج کو ابتداء سے چلایا اور اس رنگ میں طلباء کی تربیت کی کہ کوئی ماہر نفسیات بھی اتنی کامیابی سے تربیت نہیں کر سکتا اور کالج کو دیکھتے ہی دیکھتے چوٹی کے کالجوں میں لاکھڑا کیا اور ایسی روایات قائم کیں جن میں آکسفورڈ جیسی مغربی اور اسلام کے عروج کے وقت کی اسلامی درسگاہوں جیسی مشرقی روایات کا حسین امتزاج ہو۔اصل میں آپ کو خلافت کی اطاعت کا جو عرفان حاصل تھا یہ اسی کا عملی اظہار تھا۔طلباء سے بلا امتیاز مذہب و ملت مشفقانہ سلوک جس مقصد کے لئے کالج جاری کیا گیا تھا اس مقصد کو آپ نے ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھا اور دن رات ایک کر کے اتنی محنت سے اس ادارے کو چلایا کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔بلا تمیز مذہب و ملت اس کالج میں طلباء داخل ہوتے تھے اور علم کے نور سے منور ہو کر وہ اس کالج سے فارغ ہوتے تھے۔غریب امیر یا احمدی غیر احمدی کی تمیز نہ تھی، سب کے ساتھ یکساں سلوک تھا اور ایک ہی مقصد سامنے تھا کہ اس پسماندہ ملک کے تعلیمی معیار کو بلند کرنا ہے چنانچہ آپ بیان کرتے ہیں:۔" ایک ہدایت جو مجھے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے دی وہ یہ تھی کہ کالج ہم نے اس پسماندہ ملک کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لئے جاری کیا ہے، تبلیغ کے لئے جاری نہیں کیا۔اس کے لئے ہمارے دوسرے محکمے ہیں۔اس واسطے اس کالج میں ہر عقیدہ کا لڑکا جو غریب اور ذہین ہے اس کو اگر تمہاری طاقت ہے اور جس حد تک تمہاری طاقت ہے تم نے پڑھانا ہے۔یہ چیز میرے دماغ میں حضرت