حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 137 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 137

122 پڑھانا شروع کیا کہ خود بخود ہی مضمون سمجھ میں آنے لگے چنانچہ اپنے بعض تجربات کا ذکر آپ نے خود بھی فرمایا ہے اور آپ کے اس زمانہ کے بعض شاگردوں نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔چنانچہ آپ کے ایک شاگرد رشید مولوی غلام باری سیف بیان کرتے ہیں:۔ان دنوں مدرسہ احمدیہ کی آخری دو کلاسوں چھٹی اور ساتویں جماعت میں احادیث کا نصاب ترندی تھا اور آخری کلاس کا امتحان نظارت تعلیم لیتی تھی۔اس سال حدیث کا پرچہ حضور نے ڈالا تھا۔ان دنوں آپ جامعہ کے استاد تھے۔حضور کے پرچے کا اکثر حصہ روایت حدیث سے تعلق رکھتا تھا۔بظاہر متضاد احادیث کا حل آپ نے دریافت فرمایا تھا۔رٹ لینے والے طلباء کے لئے یہ مشکل تھا لیکن فہم حدیث اور احادیث پر غور کرنے والے ہمارے ہم جماعت آج بھی اس پرچے کو یاد کرتے ہیں۔مدرسہ احمدیہ سے کامیاب ہو کر ۱۹۴۰ء ۴ ۱۹۴۱ میں جب جامعہ احمدیہ میں داخلہ لیا تو اس وقت جامعہ احمدیہ کے پرنسپل حضور" تھے۔آپ ہمیں تفسیر پڑھاتے تھے۔آپ کے پڑھانے کا طریق یہ تھا کہ آپ طالب علم میں اعتماد پیدا کرتے اسے حصول علم کا طریق سکھاتے۔آپ اس کے حق میں نہ تھے کہ صرف پہلوں کی رائے رٹ لینے پر اکتفا کیا جائے۔آپ طالب علم میں تحقیق اور اجتہاد کی قوت بیدار کرتے۔جامعہ میں آپ نے سکھلایا کہ علم کے معنے دانشن یعنی فہم و دانش کے ہیں۔آپ طالب علم سے فرماتے کل فلاں حصہ کی تفسیر تم نے کلاس میں بیان کرتی ہے۔آپ خود اپنے طریقہ تعلیم کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔میں انگلستان سے واپس آیا تو حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی نے مجھے جامعہ احمدیہ میں بطور استاد کے لگا دیا اس وقت مجھے عربی تعلیم چھوڑے دس سال کا عرصہ گزر چکا تھا اس لئے میرے دماغ نے