حصارِ — Page 58
۵۸ یہ سوچی گئی تھی کہ خلیفہ وقت کو اگر اپنے آپ کو کسی طرح بھی مسلمان ظاہر کرے تو فوری طور پر قید کر کے تین سال کے لئے جماعت سے الگ کر دیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔آرڈر یہ تھے کہ اگر یہ خطبہ دے ( آرڈیننس کے دوسرے دن جمعہ تھا، تو خطبہ چونکہ ایک اسلامی کام ہے اور صرف اسی بہانے پر اسکو پکڑا جا سکتا ہے کہ تم خطبہ دے کر مسلمان بنے ہو۔تشہد پڑھا ہے، اس کے نتیجہ میں پکڑا جاسکتا ہے۔اگر خطبہ دے تو تب پکڑو اور اگر خطبہ نہ دے تو پھر کوئی بہانہ تلاش کرو۔اور اگر ربوہ کی کسی ایک بھی مسجد میں اذان ہو جائے۔یا کوئی اور بہانہ مل جائے تو تب بھی اس کو پکڑ لو۔اور آخری آرڈر یہ تھا کہ اگر کوئی بہانہ نہ بھی ملے تو بہانہ تراشو اور پکڑو۔مراد یہ تھی کہ خلیفہ وقت اگر ربوہ میں رہے تو ایک مردہ کی حیثیت سے وہاں رہے اور اپنے فرائض منصبی میں سے کوئی بھی نہ ادا کر سکے۔اگر وہ ایسا کرنے پر تیار ہو یعنی ایک مردہ کی طرح زندہ رہنے پر تیار ہو تو ساری جماعت کا ایمان ختم ہو جائے گا۔ساری جماعت یہ سوچے گی کہ خلیفہ وقت ہمیں تو قربانیوں کی طرف بلا رہا ہے ہمیں تو کہتا ہے کہ اسلام کا نام بلند کر اور خود ایک لفظ منہ سے نہیں نکالتا۔چنانچہ یہ جماعت کے ایمان پر حملہ تھا اور اگر خلیفہ وقت جماعت کا ایمان بچانے کے لئے بولے تو اس کو تین سال کے لئے جماعت سے الگ کر دو بچونکہ جماعت ایک نظام کی وجہ سے خلیفہ کا انتخاب کر ہی نہیں سکتی جب تک کہ پہلا خلیفہ مر نہ جانتے اُس وقت تک اس لحاظ سے تین سال کے لئے جماعت اپنی مرکزی قیادت سے محروم رہ جائے گی جس جماعت کو خلیفہ وقت کی عادت ہو جو نظام خلیفہ کے محور کے گرد گھومتا ہو اس کو کبھی بھی خلیفہ کی عدم موجودگی میں کوئی انجمن نہیں سنبھال سکتی۔۔