حصارِ

by Other Authors

Page 23 of 72

حصارِ — Page 23

L اطاعت منبع سعاد اطاعت خود فراموشی کی منزل حقیقت میں اطاعت خود فروشی اطاعت کے بغیر دنیا کا کوئی نظام نہیں چل سکتا اور اطاعت ہر نظام کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہے۔مگر دنیوی نظام میں اطاعت منصب ددولت کے حصول کی خاطر ہوتی ہے جبکہ دین میں اطاعت اور عدم اطاعت کا اثر اخروی زندگی پر بھی پڑتا ہے۔اسی اطاعت پر ایمان اور عدم ایمان کی عمارت کھڑی کیجاتی ہے۔اطاعت کرنے والا مومن اور انکار کرنے والا فاسق کہلاتا ہے۔اطاعت خلافت ایک نعمت ہے جو رضائے باری تعالے کی صورت میں مومن کو ملتی ہے اور اس پر تجزا وسزا اسی طرح مرتب ہوتی ہے جس طرح نبی پر ایمان یا اس کے انکار کی صورت میں انسان خدا تعالے کی رضا یا اس کے قہر کا مورد بنتا ہے۔اطاعت کی اس عظیم الشان نعمت کا اظہار خدا تعالیٰ نے خلافت کے قیام کے ساتھ ہی کیا حضرت آدم علیہ السّلام کا واقعہ بیان فرماکر بتایا کہ انسان کی تمام تر سعادتیں جذبہ اطاعت میں مضمر ہیں اور تمام رشقاوتیں نافرمانی کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں۔سعادتوں کا یہ سرچشمہ نبوت کے بعد خلافت ہے جس سے پہلو تہی دامن فیق سے ہمکنار کرتی ہے۔رمَن كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأُولَيكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ) اور پھر انسان اپنی مومنانہ حیثیت کھو کر ابلیس کا روپ دھار لیتا ہے۔گویا یہی اطاعت کی نعمت ہے جو خدا کی رحمتوں کا امیدوار بناتی ہے اور اسی منصب کی نافرمانی خدا کی رحمتوں سے دور اور مایوس کرتی ہے۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بڑی کثرت کے ساتھ اطاعت امام پر زور دیا ہے کیونکہ ہر نظام کی عموماً اور جماعت مومنین کی خصوصاً ترقی کا انحصار اطاعت خلافت پر ہے۔چنانچہ حضرت مصلح موعودہؓ فرماتے ہیں :۔