حصارِ

by Other Authors

Page 13 of 72

حصارِ — Page 13

ایک خوف دور ہوا تو دوسرے میں تلواروں کی جھنکار سنائی دینے لگی اور حضرت علی سے حضرت عثمانیہ کے قاتلوں کی سزا کا مطالبہ سنجیدگی کے ساتھ وحشت اختیار کرنے لگا تو خدا کی تقدیہ خلافت کے ذریعہ اس خوف کو دور کرنے کیلئے عجیب طور پر جاری ہوئی کہ امت مسلمہ کے لیے ایک اور خوف کی صورت پیدا کر دی گئی۔وہ یہ کہ روم کے عیسائی بادشاہ نے مسلمانوں میں خوف و ہراس اور انتشار دیکھ کر اسلامی مملکت پر حملہ کے لیے تلواروں کو آب دینی شروع کردی۔مگر وہی معاویہ جو حضرت علی کی مخالفت میں انتہا کو پہنچ رہے تھے ، ایک دم رخ بدل کر روم کے بادشاہ سے مخاطب ہونے اور کہلا بھیجا کہ یہ نہ سمجھنا کہ سلمانوں میں اختلاف ہے اور تم اپنی کچلیوں کو ان پر آنہ مانے لگو۔یاد رکھو کہ اگر تم نے اسلامی مملکت پر حملہ کیا تو سب سے پہلا جرنیل جو حضرت علی کی طرف سے تمہارے مقابلہ کیلئے نکلے گا وہ میں ہوں گا۔چنانچہ رومی بادشاہ امیر معاویہ کی اس تنبیہ سے خوفزدہ ہوا اور اپنے ارادوں سے بازہ آگیا اور اس طرح وہ شدید خوف امن میں بدل گیا۔پس یہ خلافت کا عظیم مقام تھا کہ امیر معاویہ جیسا شخص بھی حضرت علی خلیفہ وقت پر قربان ہونے کے لیے تیار ہو گیا۔اسی طرح اس موجود زمانہ میں ہم نے خلافت کے ذریعہ خوف کو ایسے حیرت انگیز طور پرامن میں بدلتے ہوئے دیکھا کہ عقل دنگ رہ گئی۔تاریخ احمدیت اس کی شاہد ناطق ہے کہ جب بھی جماعت کو خوف وہراس میں مبتلا کرنے کی کوشش کی گئی خلافت کی برکتوں سے ہر طوفان صورت گرد بیٹھ گیا اور اسی ابتداء میں جماعت غیر معمولی ترقیات کے مدارج طے کرنے لگی۔سے وہ اور ہونگے جو سیل دریا میں ڈوب مرنے کی ٹھان بیٹھے ہم ایسی موجوں کی کشمکش میں بڑھا کئے ہیں بڑھا کریں گے مخالفت کی آگ نے نہ صرف احمدیوں کے مکانوں، دوکانوں اور جائیدادوں کو جلایا بلکہ رشتہ ہائے ایمانی بھی بھسم کر دیتے۔ہر انسانیت سوز حربہ اور ہر خوفناک سچال جماعت کو مٹانے کے لیے چلی گئی اور دوسری طرف یہ نظارہ بھی دیکھا گیا کہ وہ بیٹے جن کے باپ ان کی نظروں کے سامنے شہید کیے گئے تھے اور وہ باپ جن کے بیٹوں کو اُن کے رو برو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا تھا۔جن کی متابع حبات بظاہر نا امیدی کے دھوؤں میں تبدیل