حصارِ — Page 14
ہوتی نظر آتی تھی۔وہ خلیفہ وقت سے ملے تو آنکھوں میں سکون واطمینان کے تاثرات ابھر نے لگے اور بشاشت سے ملے تو کے ابھرنے اور سے چہرہ کھل اٹھا۔خوف کی پرچھائیاں قرار کے رنگوں میں بدل گئیں۔زبان تشکر کے نفسے گانے لگی کہ سب کچھ لٹ گیا مگر متاع ایمان محفوظ رہی۔کیونکہ یہی وہ سرمایہ ہستی ہے کہ ہر عزیز سے عزیز ترین چیز بھی اس پر قربان کی جاسکتی ہے۔اور ادھر خدا کا سلوک یہ ہے کہ خلیفہ وقت کو یہ نوید دی جارہی ہے دَسِخ مَكَانَكَ إِنَّا كَفَيْنَاكَ المُسْتَهر بين۔کہ تو اپنے گھر کو وسیع تر کر، خدا خود مخالفت کرنے والوں اور استہزاء کرنے والوں سے نیٹ سے گا۔پھر اس الہام کے علو سے ظاہر ہونے لگے۔ایک طرف دشمنوں کی راہیں یاس وحرمان اور بد نصیبی و نا کامی کے کانٹوں سے اٹ گئیں اور ادھر شجر احمدیت پر ہزاروں شگوفے نکل آئے۔بغیر احمدی احباب قافلوں کی صورت میں مرکز احمدیت کی طرف رجوع کرنے لگے اور سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو نے لگے۔مکانوں میں وسعت ہوئی مرکز سلسلہ میں سر بڑی سے بڑی جگہ چھوٹی ہونے لگی۔زبر دست خطرات ، برکتوں اور فضلوں میں تبدیل ہو گئے۔پس خلافت وہ قلعہ ہے جس کی فصیلیں خوف کی دسترس سے بلند تر ہیں۔وہ خوف خواہ منافقت کا ہو یا عداوت کا۔جنگ کا ہو یا سیاست کا۔کسی گروہ کی طرف سے ہو یا بادشاہت کی طرف سے۔ہر حال میں خلافت امن کا نشان ہے۔بڑی سے بڑی حکومت بھی اس کو نقصان نہیں پہنچاسکتی بلکہ تاریخ شاہد ہے کہ توحکومت بھی خلافت حقہ سے ٹکرائی، پاش پاش ہوگئی جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس طرح بیان فرمایا کہ : - یکی ایسے شخص کو جس کو خداتعالے خلیفہ ثالث بنائے ابھی سے بشارت دیتا ہوں کہ اگر وہ خدا تعالے پر ایمان لاکر کھڑا ہو جائے گا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر دنیا کی حکومتیں بھی اس سے ٹکرلیں گی تو وہ ریزہ ریزہ ہوجائینگی کی ( خلافت حقہ اسلامیہ مثا) پس نظام خلافت کی اگر ایک طرف بنیا دیں ایمان کی مستحکم چٹان پر قائم ہیں تو دوسری طرف اس کی