حصارِ — Page 9
سند ایمان و اعمال صالحہ اللہ تعالیٰ نے خلافت کے بارہ میں فرمایا : - وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصحتِ يَسْتَخْلفَهُمْ فِي الْأَرْضِ۔کہ یہ وعدہ ان لوگوں سے ہے جو حقیقی مومن اور مناسب حال نیک عمل کرنے والے ہیں۔یہ آیت واضح کرتی ہے کہ یہ وعدہ مشروط ہے ان لوگوں سے جو نظام خلافت پر ایمان رکھتے ہیں کہ یہ برحق ہے۔یہ وعدہ ایمان اور اعمال صالحہ کا وہ خاص معیار چاہتا ہے جو خدا کے اس انعام کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔لہذا کسی جماعت میں خلافت کا قیام اس جماعت کے ایمان اور اعمالِ صالحہ کے معیاری ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔اس مضمون پر قرآن کریم مزید روشنی ڈالنے کے لیے بیان فرماتا ہے يَهَبُ لِمَنْ يَشَالُوا مَا تَا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاءُ الن کور - کہ خدا ہے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹوں سے نوازتا ہے خدا کی اس عطا اور موہبت کو جذب کرنے کے لیے خاص صلاحیت کی ضرورت ہے جس کے نتیجہ میں اولاد کا حصول ہوتا ہے اور جس میں یہ صلاحیت نہ ہو وہ اللہ تعالیٰ کی اس عنایت کو حاصل نہیں کر سکتا۔اسی طرح فرمایا۔انتُمْ تَزَرَعُوْنَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ که بی جو لہلہاتی سرسبز و شاداب کھیتیاں تمہیں نظر آتی ہیں۔یہ تم لگاتے ہو یا ہم ؟ یعنی اگر کسان بنجر در سیم زدہ زمین میں بیچ ڈالے گا تو فضل حاصل نہیں کر سکتا کیونکہ فصل اگانے کی صلاحیت اس زمین میں نہیں جو زرخیز زمین ہی ہوتی ہے اس لیے اس زمین میں فصل کا نہ ہونا اس بات کی تصدیق ہے کہ وہ ناقابل کاشت ہے۔پس جس طرح ایک بنجر اور سیم زدہ قطعہ زمین فصل پیدا نہیں کر سکتا اسی طرح خدا کی یہ عمت اور وعدہ خلافت اس جماعت میں پورا نہیں ہو سکتا جو ایمان اور عمل صالح کے اس معیار پر قائم نہ ہو جو خلافت کے قیام